خطبات محمود (جلد 27) — Page 74
*1946 74 خطبات محمود رسول کریم صلی ال نیم کا تقویٰ اور نیکی ایک اتنا بڑا سمندر تھا کہ شیطان کی باتیں بھی اس میں پڑ کر نیک ہی بن جاتی تھیں جیسے سیپی میں گرنے والا قطرہ بھی موتی بن جایا کرتا ہے۔خدا تعالیٰ جانتا ہے کہ حقیقت کیا ہے۔مگر میں نے جو یہ مثال دی ہے۔اپنی زبان کے محاورہ کے مطابق دی ہے۔کہتے ہیں کہ سیپ میں پانی کا قطرہ گر کر موتی بن جاتا ہے۔پس جو بات بھی رسول کریم ملی یکم کے دل میں داخل ہوتی تھی نیک بن جاتی تھی۔کیونکہ جس شخص کے دل میں نیکی ہو گی اس کے دل پر علی قدر مراتب ہر چیز کا ایک نیک اثر پڑے گا۔رسول کریم صلی ا کام تمام انسانوں سے چاہے وہ سابق زمانہ میں گزرے ہوئے ہوں اس زمانے میں ہوں یا آئندہ زمانہ میں آنے والے ہوں۔اعلیٰ مرتبہ رکھتے تھے۔آپ انبیاء کے بھی سردار تھے اور بنی نوع انسان کی پیدائش کے مقصود تھے۔اس لئے آپ کا مرتبہ تو بہر حال بڑا ہی تھا۔مگر آپ سے اتر کر جو انبیاء و صلحاء گزرے ہیں۔وہ بھی اپنے رنگ میں اس بات کا مظاہرہ کرتے رہے ہیں کہ ان پر جو برائی پڑتی وہ نیکی کا رنگ اختیار کر لیتی۔حضرت عیسی علیہ السلام ایک دفعہ ایک گلی میں سے گزر رہے تھے۔وہاں ایک کتا مرا پڑا تھا ان کے ساتھ ان کے جو حواری تھے وہ وہاں سے جلدی جلدی دوڑے اور کہا کتنی سخت بد بو ہے اور کتنی گندی چیز ہے۔حضرت عیسی علیہ السلام کھڑے ہو گئے اور فرمایا اس کے دانت تو دیکھو کیسے موتیوں کی طرح روشن ہیں۔تو نیک آدمی کو نیک چیز نظر آتی ہے اور بد آدمی کو بد چیز نظر آتی ہے۔ایک کمزور معدے والا انسان مٹھائی بھی کھاتا ہے تو بیمار ہو جاتا ہے۔لیکن ایک مضبوط معدے والا مرچیں بھی کھاتا ہے تو زیادہ مضبوط ہو جاتا ہے۔غریبوں کے بچے بازاروں میں پڑے ہوئے خربوزوں کے چھلکے کھا جاتے ہیں اور وہ زیادہ موٹے اور تر و تازہ ہوتے جاتے ہیں لیکن آسودہ حال لوگوں کے بچے اگر اس کا ایک سو پچاسواں حصہ بھی کھالیں تو شدید پیچش میں مبتلا ہو جاتے ہیں اور بسا اوقات اس کے نتیجہ میں وہ مر جاتے ہیں۔کیونکہ اس کے اندر بیماری ہوتی ہے اور اس کے اندر صحت ہوتی ہے۔اس کے اندر تازہ خربوزہ بھی بیماری پیدا کر دیتا ہے اور اس کے اندر خربوزے کا چھلکا بھی طاقت پیدا کر دیتا ہے۔کیونکہ وہ صحت کا سمندر ہے اور یہ بیماری کا سمندر ہے۔اسی طرح رسول کریم صلی ا لیکن چونکہ نیکی کا سمندر تھے اس لئے