خطبات محمود (جلد 27) — Page 75
*1946 75 خطبات محمود جو چیز بھی آپ کے دل میں پڑتی تھی نیک ہو جاتی تھی۔یہی حال قوموں کا ہے۔جن قوموں کے اندر خدا تعالیٰ روحانیت پیدا کرتا ہے دنیوی باتیں بھی اُن کے لئے دین بن جاتی ہیں کسی بزرگ نے کہا ہے اور حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام اکثر اس بات کو دُہرایا کرتے تھے کہ نیکی اور تقویٰ یہ ہے کہ ”دست در کار و دل بایار 3 یعنی سکے نہ بیٹھو، فضول وقت ضائع نہ کرو۔لوگوں پر بار نہ بنو۔کماؤ اور کھاؤ۔مگر جس وقت تم بظاہر سودا دے رہے ہو تمہار ا دل اس وقت خدا تعالیٰ سے باتیں کر رہا ہو۔تمہاری مادی آنکھیں گاہک پر ہوں لیکن دل کی آنکھیں اپنے مولیٰ کے چہرے پر ہوں۔ایسے آدمی کا ہر کام ہی دین ہو جاتا ہے۔رسول کریم صلی ا یکم فرماتے ہیں۔اگر کوئی شخص خدا تعالیٰ کے ساتھ محبت اور اس سے تعلق کے اظہار کے لئے اپنی بیوی کے منہ میں لقمہ بھی ڈالتا ہے تو وہ صدقہ ہو جاتا ہے۔4 یہ مطلب نہیں کہ وہ ویسا ہی صدقہ ہو گا جیسے غرباء کو دیا جاتا ہے۔بلکہ مطلب ہے کہ خدا تعالیٰ کے حضور وہ اس کی نیکی لکھی جاتی ہے۔اور گو وہ اپنی نفسانی خواہش کو پورا کرنے کے لئے اپنی بیوی سے حسن سلوک کرتا اور اس سے محبت کا اظہار کرتا ہے مگر خدا تعالیٰ کہتا ہے کہ چونکہ اس نے اپنی بیوی کے منہ میں اس بات کو مد نظر رکھتے ہوئے لقمہ ڈالا تھا کہ خدا تعالیٰ نے یہ وجود میرے سپرد کیا ہے اور اس نے اس سے حُسنِ سلوک اور پیار کرنے کا حکم دیا ہے اس لئے اس کا یہ فعل ایک نیکی ہے۔لیکن اگر وہ اپنے نفس کے لئے ایسا کر تا تو گناہ بن جاتا اور اگر وہ محض اخلاقاً ایسا کر تا تو ایک مباح چیز ہو جاتی۔یہ بھی وہی مثال ہے کہ جب نیک چیز کے اندر بُری چیز پڑتی ہے تو وہ بھی نیک ہو جاتی ہے۔تو بعض بندے ہر چیز کو خدا تعالیٰ کے لئے بنالیتے ہیں۔مگر پھر بھی مارج ہوتے ہیں۔5 بیوی کے منہ میں لقمہ ڈالنا جب وہ خدا تعالیٰ کی خاطر ہو بیشک نیکی ہے مگر جہاد کے لئے اپنا مال دینا اس سے بڑھ کر نیکی ہے کیونکہ اس کا ظاہر بھی نیک ہے اور باطن بھی نیک ہے۔اس کے ظاہر میں بھی نفس کی خواہش نہیں اور اس کے باطن میں بھی نفس کی خواہش نہیں۔پس بہر حال جو خالص دین کے کام ہوں گے وہ زیادہ اہمیت رکھنے والے اور خدا تعالیٰ کے زیادہ قریب کر دینے والے ہوں گے۔ہماری جماعت کے لوگوں نے پچھلے دنوں یہاں بھی اور باہر بھی الیکشن کے کاموں میں