خطبات محمود (جلد 27)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 65 of 706

خطبات محمود (جلد 27) — Page 65

*1946 65 خطبات محمود دفتر چونکہ زیادہ کوشش کر رہا ہے اس لئے امید ہے کہ پچھلے سال سے وعدے زیادہ ہوں گے۔اس کے بعد تحریک جدید کے دور سوم اور چہارم اور دور پنجم آئیں گے اور ہم دین کے لئے قربانیاں کرتے چلے جائیں گے۔جس دن ہم نے دین کے لئے جد و جہد چھوڑ دی اور جس دن ہم میں وہ لوگ پیدا ہو گئے جنہوں نے کہا کہ دور اول بھی گزر گیا، دورِ دوم بھی گزر گیا، دورِ سوم بھی گزر گیا، دور چہارم بھی گزر گیا، دور پنجم بھی گزر گیا، دور ششم بھی گیا، دورِ ہفتم بھی گزر گیا۔اب ہم کب تک اس قسم کی قربانیاں کرتے چلے جائیں گے ، آخر کہیں نہ کہیں اس کو ختم بھی تو کرنا چاہئے وہ اقرار ہو گا ان لوگوں کا کہ اب ہماری روحانیت سرد ہو چکی ہے اور ہمارے ایمان کمزور ہو گئے ہیں۔ہم تو امید رکھتے ہیں کہ تحریک جدید کے یہ دور غیر محدود دور ہوں گے اور جس طرح آسمان کے ستارے گنے نہیں جاتے۔اسی طرح تحریک جدید کے دور بھی گنے نہیں جائیں گے۔جس طرح اللہ تعالیٰ نے حضرت ابراہیم سے کہا کہ تیری نسل گنی نہیں جائے گی اور حضرت ابراہیم کی نسل نے دین کا بہت کام کیا۔یہی حال تحریک جدید کا ہے۔تحریک جدید کا دور چونکہ آدمیوں کا نہیں بلکہ دین کے لئے قربانی کرنے کے سامانوں کا مجموعہ ہے اس لئے اس کے دور بھی اگر نہ گنے جائیں تو یہ ایک عظیم الشان بنیاد اسلام اور احمدیت کی مضبوطی کی ہوگی۔اس کے بعد میں اُس امر کے متعلق کچھ کہنا چاہتا ہوں جس کے متعلق دوستوں کو کل معلوم ہی ہو چکا ہے۔یعنی چودھری فتح محمد صاحب اس حلقے سے ہمارے صوبہ کی اسمبلی کی ممبری کے لئے خدا تعالیٰ کے فضل سے منتخب ہو گئے ہیں۔سوال اس وقت چودھری صاحب کی کامیابی کا نہیں یا اس بات کا نہیں کہ اسمبلی کی ممبری میں ایک احمدی کامیاب ہو گیا ہے۔اسمبلی میں پہلے بھی احمدی ممبر کامیاب ہوتے رہے ہیں۔مثلاً چودھری ظفر اللہ خان صاحب، چودھری اسد اللہ خان صاحب اور پیر اکبر علی صاحب بھی اسمبلی کے ممبر رہے ہیں۔پس خالی اس بات کا سوال نہیں کہ ایک احمدی اسمبلی کا ممبر ہو گیا بلکہ ہمیں جو خوشی ہے وہ یہ ہے کہ قادیان کے علاقہ سے جس کے متعلق آج سے گیارہ سال پہلے احرار نے یہ دعویٰ کیا تھا کہ ہم نے احمدیت کو یہاں کچل دیا ہے اس حلقے میں سے لیگ کے ٹکٹ پر نہیں، یونینسٹ کے ٹکٹ پر نہیں