خطبات محمود (جلد 27) — Page 675
*1946 675 خطبات محمود بلیک مارکیٹ کرتا ہے اس کی فوراً ہمارے پاس رپورٹ کرو۔ہم اسے سخت سزا دیں گے اور اس کے ساتھ اس بات کا بھی لحاظ رکھا جائے کہ کوئی احمدی کسی غیر احمدی سے چیزیں نہ خریدے۔یہ نہیں ہونا چاہئے کہ تم احمدیوں کو چھوڑ کر دوسرے لوگوں سے سودا خرید ناشروع کر دو۔اس بات کا بھی پورے طور پر خیال رکھو کہ کوئی احمدی کسی دوسرے دکاندار سے سودا نہ خریدے۔ہاں اگر تمہیں کسی قسم کی احمدی تاجر کے متعلق شکایت ہے تو اس کی فوراً نظارت امور عامہ کو اطلاع دو۔اس لئے میں نے آئندہ اینٹوں کا سودا نظارت امور عامہ کی معرفت مقرر کر دیا ہے۔اینٹ نکالنے سے پہلے بھٹہ والے ناظر صاحب کو اطلاع دیں کہ ہمارے پاس اتنا کو ئلہ ہے اور ہم اس سے اتنی اینٹ نکالیں گے اور پھر اس کے مطابق نظارت امور عامہ نگرانی کرے۔ہم بھٹہ والوں کو یہ نہیں کہتے کہ آپ لوگ ہمیں گورنمنٹ کے کنٹرول نرخ سے کم پر دیں بلکہ ہم تو صرف یہ کہتے ہیں کہ جو نرخ گورنمنٹ نے مقرر کئے ہوئے ہیں اُن کی پابندی کی جائے۔لاہور میں اینٹ سترہ اٹھارہ روپے ہزار بک رہی ہے۔گو وہ قادیان کی اینٹ سے ایک آدھ انچ چھوٹی ہے لیکن اتنازیادہ فرق نہیں ہو سکتا۔ہم یہ سمجھ سکتے ہیں کہ قادیان کے سائز کے مطابق بائیس روپے میں مل سکتی ہے۔جب لاہور میں میں بائیس روپے کو پڑتی ہے تو کیا وجہ ہے کہ وہ قادیان میں پچاس روپے کو پڑتی ہے۔اس قسم کے ناجائز منافع اچھے نہیں ہوتے اور ان کا انجام اچھا نہیں ہو تا۔کہتے ہیں کسی حریص اور لالچی آدمی کے پاس ایک مرغی تھی جو ہر روز سونے کا ایک انڈا دیتی تھی۔اُس نے خیال کیا کہ اگر میں اسے زیادہ کھلاؤں پلاؤں تو شاید یہ دو انڈے روزانہ دینا شروع کر دے۔اس نے مرغی کو پکڑ لیا اور اس کا منہ کھول کر زور سے دانے ڈالنے شروع کئے۔آخر اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ مرغی مر گئی اور وہ پہلے اس ایک انڈے سے بھی محروم ہو گیا۔انسان کو نفع میں بھی عقل سے کام لینا چاہئے۔صرف یہ سمجھ لینا کہ صرف دو چار آدمی ہی بھٹہ چلانے کی طاقت رکھتے ہیں۔اس لئے جو نفع وہ لینا چاہیں وہ لے لیں اور جس طرح لوگوں کو لوٹنا چاہیں وہ لوٹ لیں۔غیر منظم جگہوں میں توڑا کہ ڈالا جاسکتا ہے اور یہ قطعی طور پر ڈاکہ سے کسی طرح کم نہیں لیکن ایک منظم جگہ میں اس کی اجازت نہیں دی جاسکتی۔باقی تجارتوں کے متعلق بھی