خطبات محمود (جلد 27)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 674 of 706

خطبات محمود (جلد 27) — Page 674

*1946 674 خطبات محمود ہم یہ قانون پاس کرتے ہیں کہ جماعت کے دوست اینٹوں کا سود انظامت امور عامہ کی معرفت کریں۔کیونکہ جو سود انظارت کی معرفت ہو گا اس کے متعلق معلوم ہو جائے گا کہ کس نرخ پر بھٹہ والے نے اینٹیں فروخت کیں۔اور اگر سودا نظارت امور عامہ کی معرفت ہو گا تو نظارت اس بات کی کوشش کرے گی کہ اس کی تمام اینٹیں جن کا سودا ہو چکا ہے خریدار کو دلائے اور بھٹہ والے اپنی بات سے پھر نہیں سکیں گے۔میں یہ اچھی طرح جانتا ہوں کہ گورنمنٹ نے جو ریٹ مقرر کئے ہیں وہ کم نہیں ہیں بلکہ ان میں معقول نفع رکھا گیا ہے۔گورنمنٹ نے ابتداء میں غلہ کی قیمت مقرر کرنے میں غلطی کھائی تھی لیکن بعد میں تجربہ ہو جانے کی وجہ سے 1943ء سے گورنمنٹ نے ان غلطیوں کو دور کر دیا ہے اور اب گورنمنٹ معقول قیمتیں مقرر کرتی ہے اور اس قیمت پر فروخت کر کے بھی انسان کا فی نفع حاصل کر سکتا ہے۔چنانچہ میں نے دیکھا ہے کہ جو انسٹی ٹیوشنز کو ٹلہ کنٹرول ریٹ پر منگوا کر دے دیتی ہیں اُن کو بیس روپے ہزار تک اینٹ بھٹہ والوں کی طرف سے پڑ جاتی ہے۔اس سے پتہ لگتا ہے کہ بھٹہ والوں کو تھیں روپے میں اچھا نفع مل جاتا ہے۔میرا خیال ہے کہ تیس روپے ہزار میں پانچ چھ روپے ان کا منافع نکل آتا ہے۔اور بیس پچیس فیصدی منافع اگر انسان کو مل جائے تو اُسے اور کیا چاہئے۔لیکن جو بلیک مارکیٹ والی صورت ہے اس میں تو سو فیصدی نفع ہے۔یعنی ایک روپے کی چیز دوروپے میں بیچی جائے۔یہ ظالمانہ منافع ہے۔جن چیزوں کے متعلق انسان مجبور نہیں ان کے متعلق اسے اختیار ہے خریدے یا نہ خریدے۔اور بیچنے والے کو اختیار ہے کہ چاہے جتنی قیمت مانگ لے۔مثلاً ایک شخص ہاتھی دانت کی سلائی بارہ روپے میں فروخت کرتا ہے۔ہاتھی دانت تو اصل میں دو چار آنے کا ہو گا۔باقی اُس کی محنت ہے۔اگر وہ بارہ روپے میں بیچتا ہے تو اس کے لئے کوئی شخص مجبور نہیں کہ ضرور اس سے خریدے۔لیکن مکان، کپڑا اور کھانا ان کے بغیر انسانی زندگی دو بھر ہو جاتی ہے۔اگر مکان نہیں ہو گا تو ر ہیں گے کہاں۔اگر کھانا نہیں ملے گا تو جیں گے کیسے ؟ اور اگر کپڑا نہیں ملے گا تو صحت اور اخلاق کس طرح قائم رہ سکیں گے۔جن چیزوں کے خریدنے کے لئے انسان مجبور ہوتا ہے ایسی چیزوں کا منافع ایک حد تک ہونا چاہئے۔پس آئندہ اگر کوئی شخص بلیک مارکیٹ کرتا ہوا پکڑا جائے یا اُس کے متعلق معلوم ہو کہ وہ