خطبات محمود (جلد 27)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 656 of 706

خطبات محمود (جلد 27) — Page 656

*1946 656 خطبات محمود حوصلہ نہیں پیدا ہوتا اور جب تک نوجوانوں کی اقتصادی حالت بہتر سے بہتر نہیں ہو جاتی وہ صحیح طور پر قربانی نہیں کر سکتے۔اور پھر جب تک ہر سال ہزاروں ایسے نوجوان نہیں پیدا ہوتے جو صناع، ملازم اور پیشہ ور بنیں۔اس قسم کی سکیم کو چلایا نہیں جاسکتا۔مگر یہاں تو یہ حالت ہے کہ پرانی فوج تو متواتر کئی سالوں سے قربانیاں کرتی آرہی ہے اور اس فوج کے مجاہدین نے اخلاص او ر قربانی کی نہایت اعلیٰ مثال قائم کر دی ہے۔لیکن نئی فوج پر ایک قسم کا جمود اور سکون طاری ہے۔اور یوں معلوم ہوتا ہے کہ گویا اُن کو ان باتوں کا احساس تک بھی نہیں ہے۔حالا نکہ ہماری کوشش تو یہ ہونی چاہئے کہ ہماری ہر دوسری نسل پہلی سے ترقی یافتہ ہو اور پہلوں سے بڑھ چڑھ کر قربانیاں پیش کرے اور اپنے جوش اور اخلاص کا مظاہرہ کرے۔یہ نمونہ جو نئی فوج کے مجاہدین نے دکھایا ہے نہایت خطرناک نتائج پیدا کرنے والا ثابت ہو گا۔پس میں جماعت کے نوجوانوں کو پھر توجہ دلاتا ہوں کہ وہ تحریک جدید کی اہمیت کو سمجھیں اور خدا تعالیٰ کی طرف سے جو عظیم الشان ذمہ داریاں ان پر عائد ہوتی ہے اُن پر غور کریں۔اور جو پہلے سے اس جہاد میں حصہ لے رہے ہیں وہ پہلے سے بڑھ چڑھ کر قربانیاں پیش کریں۔اور جو نوجوان کسی وجہ سے اب تک اِس جہاد میں حصہ نہیں لے سکے وہ اب وعدے لکھائیں اور جہاں تک ان سے ممکن ہو سکے زیادہ سے زیادہ قربانی کریں۔پرانے لوگوں کو بھی میں توجہ دلا تا ہوں کہ جس طرح انہوں نے پہلے بھی جوش اور اخلاص سے اِس جہاد میں حصہ لے کر ایک بے نظیر مثال قائم کی ہے اب وہ اس کو زیادہ سے زیادہ بے نظیر بنانے کی کوشش کریں تاکہ اُن کی آئندہ نسلیں بھی فخر اور عزت کے ساتھ یاد کریں۔کیونکہ قربانی ہی دنیا میں ایک ایسی چیز ہے جو کسی کا نام زندہ رکھنے کا موجب بن سکتی ہے۔اس وقت تک دنیا میں اربوں انسان مر چکے ہیں اُن میں سے کروڑوں ایسے ہوتے ہیں جن کو مرے ہوئے ابھی چند سال بھی نہیں گزرتے کہ ان کا نام و نشان تک مٹ جاتا ہے۔مگر ان کے مقابلے میں کئی لوگ ایسے بھی فوت ہوئے ہیں جن کی وفات پر ہزاروں سال گزر چکے ہیں مگر اُن کی قومیں اُن کی بے نظیر قربانیوں کی وجہ سے انہیں نہایت عزت کے ساتھ یاد کرتی ہیں۔دنیا میں کونسا ایسا انسان گزرا ہے جس کا نام سوائے کسی نیک مثال کے اب تک زندہ ہے؟