خطبات محمود (جلد 27) — Page 603
*1946 603 خطبات محمود جائیں گی اور گوبر بھی کھاد بنانے کے کام آسکے گا۔اور اگر ان کا مشترکہ طور پر میل جول نہ بھی ہو سکے تو ہر زمیندار اپنی اپنی زمین میں درخت لگا سکتا ہے۔اور جب فرصت ملے کبھی ایک درخت لگالیا، کبھی دوسر الگا لیا۔اسی طرح سڑکوں اور راستوں کے کنارے پر بھی لگائے جاسکتے ہیں۔اس طرح گاؤں کی ساری سڑکیں درختوں سے بھر جائیں گی جن سے سایہ بھی ہو گا اور ان کی لکڑی بھی کام آسکے گی۔گاؤں کے ساتھ جو اُفتادہ زمین بیلوں وغیرہ کے باندھنے کے لئے ہوتی ہے اُس میں بھی درخت لگائے جاسکتے ہیں۔مگر چونکہ زمیندار یہ کام نہیں کرتے اس لئے وہ اپنی زمینوں سے غلہ بھی بہت تھوڑی مقدار میں حاصل کرتے ہیں اور ان کے گاؤں بھی نہایت گندی حالت میں ہوتے ہیں۔جس گاؤں میں بھی چلے جاؤ مرغوں کی آنتیں اور بچوں کا پاخانہ گلیوں میں پڑا ہو گا اور ہر قسم کی غلاظت سے گلیاں بھری پڑی ہوں گی۔جو عورت بڑی صاف ستھری ہو گی اُس کے گھر میں تو بے شک پوچا پھر اہوا ہو گا مگر وہ اپنے بچے کو گلی میں پاخانہ پھرنے کے لئے بھیج دے گی۔یہی وجہ ہے کہ گاؤں اور شہر اتنے گندے ہوتے ہیں کہ بسا اوقات انسان کے لئے گلی میں چلنا مشکل ہو جاتا ہے۔اور اگر کوئی چلے تو اس کے کپڑوں کو پاخانہ لگ جاتا ہے اور گندگی کی بُو سے طبیعت خراب ہو جاتی ہے۔غرض یہاں کے زمیندار گھر کا مطلقاً خیال نہیں کرتے صرف باہر کا ہی کرتے ہیں۔لیکن دوسرے ممالک کے لوگ دونوں طرف کا خیال رکھتے ہیں۔وہ گھر کا کام بھی کرتے ہیں اور باہر کا کام بھی کرتے ہیں۔ہماری جماعت بھی اس عام ہندوستانی غفلت میں مبتلا ہے۔اس کے سامنے بھی دین کا کام دو طرح کا ہے ایک گھر کا دوسرا باہر کا۔مگر وہ ایک یا دوسرے سے غفلت برتتی ہے۔گھر کا کام تو یہ ہے کہ ہم جماعت کی تربیت کا خیال رکھیں، جماعت کو روزے اور نمازوں کا پابند بنایا جائے اور نصیحت کی جائے کہ کسی کے ساتھ لڑائی جھگڑا نہ کرو، کسی کو نقصان نہ پہنچاؤ، قرآن کریم کا علم سکھایا جائے، حدیث کا علم سکھایا جائے، کسی کی جھوٹی حمایت کرنے سے روکا جائے۔عام لوگوں میں یہ مرض پایا جاتا ہے کہ اگر کسی کا بچہ ہمسائے یا کسی اور کے بچے سے لڑے تو وہ شخص بجائے اس کے کہ پہلے تحقیق کرے کہ قصور کس کا تھا اُلٹا اپنے ہمسائے سے لڑنے لگ جاتا ہے اور اپنے بچے کی جھوٹی حمایت کرنا شروع کر دیتا ہے کہ تمہارا بچہ میرے بچے سے کیوں لڑا۔