خطبات محمود (جلد 27) — Page 52
*1946 52 خطبات محمود فرق ہے۔ہماری جماعت کے مبلغ اس لئے نہیں گئے کہ وہ لوگوں کو زندہ رکھیں بلکہ اس لئے گئے ہیں کہ وہ لوگوں کو زندہ کریں۔اس لئے ان کی مثال دنیا کے مقابلہ میں ایسی بھی نہیں جیسی تین چاولوں کی ہوتی ہے بلکہ ان کی مثال تو ایک چاول کے ہزارویں حصہ کی بھی نہیں رہ جاتی۔جس طرح ایک شخص کا روٹی کی بجائے صرف سانس لے لینا اسے زندہ نہیں رکھ سکتا اسی طرح یہ مبلغ دنیا کی ضروریات کے مقابلہ میں کوئی حیثیت ہی نہیں رکھتے۔یہ ایک بیج ہے جو زمین میں بویا گیا مگر وہ بیچ نہیں جو کسی ملک کی ضروریات کو مد نظر رکھتے ہوئے بویا جاتا ہے۔گورنمنٹ پیج ہوتی ہے تو وہ یہ امر مد نظر رکھتی ہے کہ اتنا بیج ہو جو آٹھ دس یا پندرہ بیس سال میں سارے ملک کی ضروریات کو پورا کر سکے۔لیکن ہمارا یہ بیج اس قسم کا بھی نہیں بلکہ ہمارا پیج اس قسم کا ہے جیسے اللہ تعالیٰ نے آدم کی پیدائش کے وقت دنیا میں بویا اور وہ لاکھوں لاکھ سال میں ترقی کو پہنچا۔اگر اس تدریجی ترقی کے ساتھ یہ بیج بڑھا تو اس کے لئے لاکھوں یا ہزاروں سال کی ضرورت ہو گی۔لیکن دنیا میں کوئی مذہب بھی آج تک ہزار ہا سال تک زندہ نہیں رہا۔موجود تو رہا ہے مگر زندہ نہیں رہا۔ہندو مذ ہب ہندوؤں کے مقولہ کے مطابق لاکھوں سال سے ہے اور یورپین لوگوں کی تحقیقات کے مطابق یہ مذہب اڑھائی تین ہزار سال سے ہے۔مگر مذہب کا موجو د ہو نا اور چیز ہے اور مذہب کا زندہ ہونا اور چیز ہے۔وہ حقیقتیں جو رِ شی لائے تھے ، وہ حقیقتیں جو کرشن اور رامچند رلائے تھے وہ اب کہاں ہیں ؟ وہ زندگی کا ثبوت جو حضرت کرشن اور حضرت رامچندر پیش کیا کرتے تھے وہ اب کہاں ہے؟ وہ ان کا خدا تعالیٰ سے مکالمہ مخاطبہ اب کہاں ہے ؟ اور کن لوگوں کے ساتھ ہے ؟ یہ نہ سہی وہ کون سے ہندو ہیں جو ویدوں پر عمل کرتے ہیں ؟ حقیقت تو یہ ہے کہ آج ساری ہندو دنیا میں ایک انسان بھی ایسا نہیں جو کہہ سکے کہ وہ ویدوں کی تعلیم کے مطابق باطنی طور پر تو الگ رہا ظاہری طور پر ہی عمل کر رہا ہے۔عیسائی مذہب اُنیس سو سال سے موجود ہے لیکن موجود ہونا اور چیز ہے اور زندہ ہونا اور چیز ہے۔حضرت مسیح تو دنیا کو للکار کر چیلنج دیتے ہیں کہ اگر تم میں ایک رائی کے برابر بھی ایمان ہو گا تو تم ہواؤں کو کہو گے تھم جاؤ تو وہ تھم جائیں گی، تم دریاؤں کو کہو گے کہ ٹھہر جاؤ تو وہ ٹھہر جائیں گے ، تم پہاڑوں کو کہو گے کہ چلو تو وہ چلنے لگ جائیں گے۔3 ہم مانتے ہیں کہ یہ استعارے کا کلام ہے۔پہاڑ سے مراد ہمالیہ