خطبات محمود (جلد 27) — Page 579
*1946 579 خطبات محمود انابت اور استغفار کرنے کے وہ مغرور ہو جاتا ہے اور اس بات کی ضرورت نہیں سمجھتا کہ مرکز کو رپورٹ بھجوائے اور مرکز سے ہدایات حاصل کرے۔حالانکہ اس کو ایک جگہ کا مبلغ یا انچارج بنانے کے صرف اتنے معنے ہوتے ہیں کہ وہ اس جگہ کے حالات کے متعلق مرکز سے مدد حاصل کرے اور جو بھی کام کرے مرکز کے مشورہ اور اس کی ہدایات کے ماتحت کرے۔مگر بجائے اِس کے کہ وہ مرکز سے مشورہ حاصل کر کے اپنے کاموں میں برکت پیدا کریں وہ من مانی کارروائیاں کر کے سلسلہ کو نقصان پہنچاتے اور اپنے ایمان کو بھی بر باد کرتے ہیں۔اسی طرح میں بیرونی جماعتوں کے سیکرٹریان تبلیغ کو بھی انتباہ کرتا ہوں کہ ان کا صرف یہ کام نہیں کہ تبلیغ کریں یا دوسروں سے تبلیغ کا کام لیں بلکہ اُن کا یہ بھی کام ہے کہ وہ بار بار اپنی مشکلات پیش کر کے ہم سے مشورہ حاصل کریں۔اس غرض کے لئے انہیں بار بار قادیان آنا چاہئے اور بار بار مجھ سے ملنا چاہئے۔مگر میں نے دیکھا ہے بجائے اس کے کہ وہ اپنی ذمہ داری سمجھیں وہ سال سال دو دو سال خاموش بیٹھے رہتے ہیں اور پوچھا جائے تو شکوہ کرتے ہیں کہ ہم کیا کریں، ہمارے علاقہ میں تو مبلغ آتے ہی نہیں۔حالانکہ اگر ان کے سینہ میں اسلام کا درد ہو تا۔اگر ان کے دل میں اسلام کا دکھ ہوتا، اگر ان کے اندر یہ جنون کام کر رہا ہو تا کہ ہم نے دنیا کو ہدایت کی طرف لانا ہے تو وہ گھروں میں کیوں بیٹھے رہتے۔وہ قادیان آتے، ہم سے ملتے، اپنی مشکلات پیش کرتے ، ہماری ہدایات سنتے اور پھر اس کے مطابق عمل کرنے کی کوشش کرتے۔مگر پوچھنے پر ہمیشہ وہ عذر کر دیا کرتے ہیں کہ ہم کیا کریں ہماری طرف تو کسی نے توجہ ہی نہیں کی۔اگر تمہاری طرف کسی نے توجہ نہیں کی تھی تو کیا تمہارا یہ کام نہیں تھا کہ تم خود دوسروں کو اپنی طرف متوجہ کرو؟ کیا جب کسی شخص کو درد گردہ ہو رہا ہو تو اُسے یاد دلانے کی ضرورت ہوتی ہے کہ تمہیں گردہ کا درد ہے۔کیا کسی کی آنکھ میں درد ہو تو اسے یاد دلانے کی ضرورت ہوتی ہے کہ تمہاری آنکھ بیمار ہے؟ کیا کسی کے پیٹ میں درد ہو تو اسے یاد دلانے کی ضرورت ہوتی ہے کہ تمہارے پیٹ میں درد ہے؟ وہ خود بخود درد سے بیقرار پھر رہا ہوتا ہے اور یہ ضرورت ہی نہیں پڑتی کہ اسے کوئی یاد دلائے۔اور اگر وہ ضرورت محسوس کرتا ہے تو اس کے معنے یہ ہوتے ہیں کہ اسے درد نہیں اور اس کا یہ خیال کہ اسے درد ہے ایک بے معنی بات ہے۔اسی طرح اگر