خطبات محمود (جلد 27)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 575 of 706

خطبات محمود (جلد 27) — Page 575

*1946 575 خطبات محمود جب تک بار بار ہم سے مشورہ نہیں لیں گے اُس وقت تک اُن کے کام میں کبھی برکت پیدا نہیں ہو سکتی۔آخر خدا نے ان کے ہاتھ میں سلسلہ کی باگ نہیں دی میرے ہاتھ میں سلسلہ کی باگ دی ہے۔انہیں خدا نے خلیفہ نہیں بنایا مجھے خدا نے خلیفہ بنایا ہے اور جب خدا نے اپنی مرضی بتانی ہوتی ہے تو مجھے بتاتا ہے انہیں نہیں بتاتا۔پس تم مرکز سے الگ ہو کر کیا کر سکتے ہو۔جس کو خدا اپنی مرضی بتاتا ہے، جس پر خدا اپنے الہام نازل فرماتا ہے، جس کو خدا نے اس جماعت کا خلیفہ اور امام بنا دیا ہے اس سے مشورہ اور ہدایت حاصل کر کے تم کام کر سکتے ہو۔اس سے جتنا زیادہ تعلق رکھو گے اسی قدر تمہارے کاموں میں برکت پیدا ہو گی اور اس سے جس قدر دور رہو گے، اسی قدر تمہارے کاموں میں بے برکتی پیدا ہو گی۔جس طرح وہی شاخ پھل لا سکتی ہے جو درخت کے ساتھ ہو۔وہ کٹی ہوئی شاخ پھل پیدا نہیں کر سکتی جو درخت سے جدا ہو۔اسی طرح وہی شخص سلسلہ کا مفید کام کر سکتا ہے جو اپنے آپ کو امام سے وابستہ رکھتا ہے۔اگر کوئی شخص امام کے ساتھ اپنے آپ کو وابستہ نہ رکھے تو خواہ وہ دنیا بھر کے علوم جانتا ہو ، وہ اتنا بھی کام نہیں کر سکے گا جتنا بکری کا بکر وٹہ کام کر سکتا ہے۔پس میں جماعت کو نصیحت کرتا ہوں کہ اسے اپنی تنظیم کرنی چاہئے اور مرکز سے تعلق رکھ کر باقاعدہ اپنی رپورٹیں بھجوانی چاہئیں اور بار بار مشورہ حاصل کرنا چاہئے۔جب تک ہر احمدی کو ہم تبلیغ کے کام پر نہیں لگا دیتے، جب تک ہر احمدی کچھ نہ کچھ وقت تبلیغ کے لئے نہیں دیتا، جب تک تم میں سے ہر شخص تبلیغ کے لئے بے قرار ہو کر نہیں پھر تا اُس وقت تک ہم میں مداہنت اور منافقت باقی رہے گی اور اس وقت تک بے ایمان اور کمزور لوگ ہم میں پیدا ہوتے رہیں گے۔اور جب تک کسی جماعت میں بے ایمان لوگوں کا پیدا ہونا بند نہ ہو اُس وقت تک وہ جماعت خطرے سے باہر نہیں ہو سکتی۔آخر ایک مبلغ یہ کس طرح خیال کر لیتا ہے کہ جو کام خلیفہ وقت کر سکتا ہے وہی کام وہ بھی سر انجام دے سکتا ہے۔بسا اوقات لوگوں سے کام لینے کے لئے روحانی دباؤ کی ضرورت ہوتی ہے۔بسا اوقات جسمانی اور نظامی دباؤ کی ضرورت ہوتی ہے مگر یہ طاقت ایک مبلغ کو کہاں حاصل ہے۔وہ تو جماعت کے لاکھوں افراد میں سے ایک فرد ہوتا ہے اور اس سے زیادہ اس کی کوئی حیثیت نہیں ہوتی مگر وہ بنی بنائی چیز لے کر بیٹھ جاتا ہے اور خیال کرتا ہے کہ اب مجھے کسی اور کی مدد کی ضرورت نہیں۔"