خطبات محمود (جلد 27)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 566 of 706

خطبات محمود (جلد 27) — Page 566

*1946 566 خطبات محمود تمہیں یہ شوق بھی نہیں ہو گا کہ تم احمدیت کی تعلیم لوگوں میں پھیلاؤ۔لیکن جس دن تم نے احمدیت کی قدر و قیمت کو سمجھ لیا اس دن تم بے تاب ہو کر پھرو گے اور چاہو گے کہ اور لوگ بھی دیکھیں کہ ہمیں اللہ تعالیٰ نے کتنی بڑی نعمت سے نوازا ہے۔دنیا میں لوگ معمولی معمولی چیزیں جب تک دوسروں کو نہ دکھالیں انہیں صبر نہیں آتا۔اور تو اور لوگ حج کر کے آتے ہیں تو اپنے نام کے ساتھ حاجی لکھنا شروع کر دیتے ہیں تاکہ لوگوں کو معلوم ہو کہ وہ حج کر چکے ہیں۔اگر کوئی شخص مسجد میں بیٹھ کر ذکر الہی کرنے کا عادی ہو اور لوگ اس کے متعلق کہیں کہ وہ بڑا ذکر کرنے والا ہے تو وہ خوش ہوتا ہے۔جس کے معنے یہ ہوتے ہیں کہ ان کے اندر یہ احساس ہے کہ اور لوگ بھی اس نیکی کو دیکھیں اور اس کی نقل کر لیں۔بعض لوگوں کی عادت ہوتی ہے کہ ان کے گھر پر جا کر چندہ مانگا جائے تو وہ پانچ دس روپے دے دیتے ہیں لیکن اگر مجلس میں ہنگامی طور پر چندہ طلب کیا جائے تو وہ ہزار ہزار روپیہ کا وعدہ کر دیتے ہیں۔کیونکہ ان کو خیال آتا ہے کہ اور لوگ بھی سنیں کہ ہم نے کیا کام کیا ہے۔اگر دنیوی دولت کی نمائش کے لئے لوگ اتنا شوق رکھتے ہیں۔تو یہ کس طرح ہو سکتا ہے کہ انسان کو خدا تعالیٰ کی طرف سے ایک عظیم الشان روحانی دولت ملی ہو اور وہ اس بات کے لئے بے تاب نہ ہو کہ میں لوگوں میں پھروں اور انہیں بتاؤں کہ میرے پاس کتنی قیمتی چیز ہے۔اگر وہ اس نعمت کا اظہار نہیں کرتا، اگر وہ لوگوں کو نہیں بتا تا کہ میرے پاس کتنی بڑی دولت ہے تو اس کے معنے یہ ہیں کہ وہ اس کو دولت ہی نہیں سمجھتا۔پس پہلے اپنے اندر احساس پیدا کرو، اپنے اندر ایمان اور جوش پیدا کرو تا کہ تم دنیا کو بتاؤ کہ اللہ تعالیٰ نے تمہیں وہ انعام دیا ہے جو دنیا میں شاذ و نادر ہی کسی کو ملا کرتا ہے۔انبیاء کا زمانہ یا انبیاء کے قریب کا زمانہ جب اللہ تعالیٰ کی طرف سے تازہ بتازہ نشانات ظاہر ہو رہے ہوں ہر شخص کو نصیب نہیں ہو تا۔مگر خدا نے تم کو یہ زمانہ نصیب کیا ہے۔اربوں ارب کی دنیا میں سے ہماری جماعت کے چند گنتی کے آدمی ہیں جن پر خدا تعالیٰ نے یہ مہربانی اور نوازش کی اور جنہیں اس انعام اور فضل کے لئے اس نے مخصوص کر لیا۔پس ہماری جماعت کے ہر فرد کا یہ فرض ہے کہ وہ خدا تعالیٰ کی اس نعمت کا اظہار کرے اور دنیا کے ہر فرد کو بتائے کہ اس پر خدا تعالیٰ نے کتنا بڑا انعام کیا ہے۔اللہ تعالیٰ قرآن کریم میں فرماتا ہے وَأَمَّا بِنِعْمَةِ رَبِّكَ فَحَدِثُ -5