خطبات محمود (جلد 27) — Page 565
*1946 565 خطبات محمود نبی کیوں بھیجے۔خدا تعالیٰ اپنا نبی اُسی وقت بھیجا کرتا ہے جب اُس کی طرف سے یہ فیصلہ ہوتا ہے کہ لوگ ہدایت پائیں۔پس میں تمہاری یہ بات کس طرح مان لوں کہ لوگ تمہاری باتوں کو نہیں سنتے۔اصل بات یہ ہے کہ خود تم میں وہ روح نہیں جو دوسروں پر اثر ڈال سکے۔تم میں وہ دیوانگی اور وہ جوش نہیں جس کے بعد انسان صبر سے بیٹھ ہی نہیں سکتا بلکہ وہ اٹھتے بیٹھتے تبلیغ کے لئے بیقرار رہتا ہے اور اس کی وجہ یہ ہے کہ ابھی تک ہماری جماعت نے ایمان کے معاملہ پر اچھی طرح غور نہیں کیا۔اگر وہ غور کرتی تو یقیناً اس کا عمل موجودہ عمل سے بالکل مختلف ہو تا۔وہی لوگ جو یہ عذر کرتے سنائی دیتے ہیں کہ ہم کیا تبلیغ کریں لوگ تو ہماری باتیں سنتے نہیں۔اُنہی کو ہم دیکھتے ہیں کہ جب ان کا لڑکا بیمار ہو تو دن اور رات اس کی تیمار داری میں لگے رہتے ہیں اور انہیں چین نہیں آتا جب تک وہ اچھا نہ ہو جائے۔آخر اس کی کیا وجہ ہوتی ہے ؟ یہی کہ وہ بیماری کی اہمیت کو سمجھتے ہیں۔وہ اپنے بچے کا درد اپنے دل میں رکھتے ہیں۔اگر ایمان کی اہمیت کو بھی وہ سمجھتے ، اگر کفر کی ہلاکت اور اس کی بربادی بھی ان کے دل کو دردمند کرتی تو یہ کس طرح ہو سکتا تھا کہ وہ خاموش بیٹھے رہتے اور ان میں کوئی حرکت پیدا نہ ہوتی۔پیغامیوں کو کیوں ٹھو کر لگی؟ اسی لئے کہ انہوں نے اس مسئلہ کی اہمیت کو نہ سمجھا۔انہوں نے خیال کر لیا کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا انکار معمولی بات ہے۔نتیجہ یہ ہوا کہ انہیں تبلیغ کی توفیق بھی نہیں ملتی کیونکہ ان میں یہ احساس ہی پیدا نہیں ہوتا کہ ہمارا بھائی کتنا بیمار ہے۔مجھے افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ ابھی ہماری جماعت کو بھی اس کا پورا احساس نہیں۔پس میں دوستوں کو توجہ دلاتا ہوں کہ انہیں وقت سے فائدہ اٹھانا چاہئے اور پھر ایک دفعہ اپنا سارا زور تبلیغ کے لئے صرف کر دینا چاہئے۔اب آپ لوگوں نے کافی آرام کر لیا ہے اور اب وقت ہے کہ دوبارہ تبلیغ پر زور دیا جائے۔مگر اس امر کو ہمیشہ مد نظر رکھنا چاہئے کہ جب تک صحیح طور پر تبلیغ نہ کی جائے اُس وقت تک دوسروں پر کوئی اثر نہیں ہو سکتا۔دوسروں پر اثر ڈالنے کے لئے ضروری ہے کہ تم پہلے اپنے اندر درد پیدا کر و اور اس حقیقت کو اچھی طرح سمجھو کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام اور سلسلہ احمدیہ خدا تعالیٰ کی ایک ایسی عظیم الشان نعمت ہے جو کبھی کبھار دنیا کو نصیب ہوتی ہے۔جب تک تم میں یہ احساس پیدا نہیں ہو گا اُس وقت تک