خطبات محمود (جلد 27) — Page 557
*1946 557 خطبات محمود ہمارے پاس ہو۔ایسی صورت میں وہ لوگ آسانی کے ساتھ دین واحد پر جمع نہیں ہو سکتے۔جب تک ہماری جماعت دیوانہ وار یہ کام نہ کرے اور اپنے تمام دوسرے کاموں پر اس کو مقدم نہ کر لے اُس وقت تک یہ کام ہوتا نظر نہیں آتا۔اس میں کوئی شبہ نہیں کہ ہم کام کریں یا نہ کریں۔دلوں کی تبدیلی خدا تعالیٰ کے اختیار میں ہے اور وہ اپنے فضل سے لوگوں کو ہدایت دے سکتا ہے مگر خدا تعالیٰ کا فضل کھینچنے کے لئے بھی کوئی چیز ہونی چاہئے۔خدا اپنا فضل اندھادھند نازل نہیں کرتا۔جب بھی خدا تعالیٰ کسی قوم کی ترقی کے سامان پیدا کرتا ہے ، وہ پہلے اس سے قربانی کا مطالبہ کرتا ہے اور جب قوم اس مطالبہ پر اپنی قربانی پیش کر دیتی ہے تب وہ اپنے فضل اس پر بڑھا چڑھا کر نازل کرتا ہے۔اللہ تعالیٰ نے چاہا کہ ابراہیم کی نسل کو بڑھائے مگر پیشتر اس کے کہ وہ ابراہیم کی نسل کو بڑھائے اس نے تقاضا کیا کہ ابراہیم اپنے ایک ہی بیٹے کو جو اسے بڑھاپے میں ملا تھا، قربان کر دے۔جب ابراہیم اپنے بیٹے کو قربان کرنے کے لئے تیار ہوا تب خدا کی طرف سے فیصلہ ہوا کہ ابراہیم کی نسل کو بڑھایا جائے۔اسی طرح جب خدا نے چاہا کہ ابراہیم کی نسل میں ہمیشہ کے لئے نبوت رکھ دے اور آئندہ جو بھی نبی آئے یا تو وہ براہ راست ابراہیم کی نسل میں سے ہویا ابراہیم پر ایمان لانے والا ہو۔تو خدا تعالیٰ نے اس انعام کے دینے سے پہلے اس سے تقاضا کیا کہ وہ اپنے بیٹے کو ایک بے آب و گیاہ جنگل میں چھوڑ آئے جہاں کامیاب زندگی کی صورت تو الگ رہی ، معمولی زندگی کا بھی کوئی امکان نہیں تھا۔وہ ایک ایسی جگہ تھی جہاں پینے کے لئے پانی اور کھانے کے لئے کھیتی باڑی اور ساتھ رہنے کے لئے کوئی انسان نہیں تھا۔ایک جنگل اور بیابان تھا جس میں نہ پانی تھا نہ کھانا، نہ مونس نہ یارو مدد گار۔جب ابراہیم نے اللہ تعالیٰ کے حکم کے ماتحت اپنے دل پر چُھری پھیرتے ہوئے اس بات کو منظور کر لیا اور ایک ویران اور بے آباد جگہ میں وہ اپنی اولاد کو چھوڑ آیا۔تب خدا نے فیصلہ کیا کہ اے ابراہیم ! جس طرح تو نے میرے لئے قربانی کی ہے اور اس لئے ایک بے آب و گیاہ جنگل میں اپنی اولاد کو جا بسایا ہے کہ میر اذکر بلند ہو اور ہمیشہ ایسے لوگ پیدا ہوتے رہیں جو میری خاطر رکوع و سجود کرنے والے ہوں اس طرح میں بھی فیصلہ کرتا ہوں کہ دنیا کی تمام پاکیزگی، دنیا کی تمام اصلاح اور دنیا کی تمام روحانی ترقی