خطبات محمود (جلد 27) — Page 554
*1946 554 خطبات محمود حصہ لے۔اس میں کوئی شبہ نہیں کہ ہمارا قدم خدا تعالیٰ کے فضل سے آگے کی طرف بڑھ رہا ہے مگر جوں جوں ہمارا قدم بڑھ رہا ہے مشکلات بھی بڑھتی جا رہی ہیں اور قربانیوں کے مطالبات بھی بڑھتے چلے جائیں گے۔واقع یہ ہے کہ موجودہ قربانیوں سے ہم دنیا کو فتح نہیں کر سکتے ، موجودہ ذہنیتوں سے ہم دنیا کو فتح نہیں کر سکتے، موجودہ کشمکش سے ہم دنیا کو فتح نہیں کر سکتے، موجودہ حالات سے ہم دنیا کو فتح نہیں کر سکتے ، جب تک ہم اپنی زندگی میں سادگی پیدا نہیں کرتے ، جب تک ہم اپنی عبادات میں سوز اور گداز پیدا نہیں کرتے ، جب تک ہم اپنی قربانیوں کو زیادہ اعلی معیار پر نہیں پہنچاتے ، جب تک ہم اپنی جد وجہد کی رفتار کو کئی گنا زیادہ تیز نہیں کر دیتے، جب تک ہم اپنے کاموں میں زیادہ پجہتی اور اتحاد کا ثبوت نہیں دیتے اس وقت تک وہ برکتیں اور رحمتیں نازل نہیں ہو سکتیں جو اس زمانہ میں خدا تعالیٰ نے ہماری جماعت کے لئے مخصوص کی ہیں۔وہ تو ایسی شرط کے ساتھ مخصوص ہیں کہ ہم اپنا فرض ادا کریں۔جب ہم اپنا فرض ادا کر دیں گے تو خدا تعالیٰ کی رحمتیں ہم پر نازل ہونے لگ جائیں گی۔میں امید کرتا ہوں کہ جماعت موجودہ حالات کی نزاکت کا احساس کرتے ہوئے اپنے اندر تبدیلی پیدا کرنے کی کوشش کرے گی اور وہ اپنی غفلت اور کو تاہیوں کا ازالہ کرے گی۔اس سلسلہ میں میں تمام جماعت سے درخواست کرتا ہوں کہ قادیان میں بھی اور بیرونی جماعتوں میں بھی ہر جگہ جلسے کئے جائیں۔لجنہ اماء اللہ الگ جلسے کرے ، انصار اللہ الگ جلسے کریں، خدام الاحمدیہ الگ جلسے کریں اور تحریک جدید کے مطالبات اور اس کے اصول کو پھر تازہ کیا جائے۔پھر جماعت کے قلوب میں ان اصول کو راسخ کیا جائے اور پھر جماعتوں میں بیداری اور ہوشیاری پیدا کی جائے۔بڑے شہروں میں جہاں جماعتیں مختلف حلقوں میں منقسم ہوں وہاں الگ الگ حلقوں میں جلسے کئے جائیں اور دوبارہ تحریک جدید کو زندہ کر کے اور اس کے مطالبات کی اہمیت بتا کر لوگوں کے اندر زیادہ سے زیادہ قربانی اور ایثار کا مادہ پیدا کیا جائے۔آئندہ ہمیں کفر سے جو جنگ پیش آنے والی ہے وہ پہلی جنگوں سے بہت بڑھ کر ہو گی اور اس میں پہلی قربانیوں سے بہت زیادہ قربانیاں کرنی پڑیں گی۔اگر ہم وہ قربانیاں پیش نہیں کریں گے تو ہمارا انجام اچھا نہیں ہو گا اور ہم اللہ تعالیٰ کے حضور کبھی سرخرو نہیں ہو سکیں گے۔اللہ تعالیٰ سے۔