خطبات محمود (جلد 27) — Page 536
*1946 536 خطبات محمود بے شک بڑودہ ہاؤس میں ہوئی تھی اور نواب صاحب کے مشیر نے کہا تھا کہ ہم یہ پسند نہیں کر سکتے کہ نواب صاحب بھنگی کالونی میں جائیں لیکن بعد میں انہوں نے یہ بھی پسند نہیں کیا کہ صرف بڑودہ ہاؤس میں ملاقات ہو بلکہ خود ان کے گھروں پر گئے اور رات اور دن کوشش کی کہ کسی طرح صلح ہو جائے۔یہ علامت ہے اس بات کی کہ اب مسلمانوں میں بھی قربانی اور بیداری کے آثار پیدا ہو رہے ہیں۔خواہ دنیا کی نگاہ سے نواب صاحب بھوپال، نواب صاحب چھتاری، سر سلطان احمد اور سر آغا خاں کی قربانی او جھل رہے مگر اللہ تعالیٰ جو عالم الغیب ہے اور تمام رازوں کو جاننے والا ہے اُس نے یقیناً ان لوگوں کے ایثار اور ان کی قربانی کو دیکھا ہے اور خدا کی درگاہ سے یہ لوگ بدلہ لئے بغیر نہیں رہیں گے کیونکہ خدا کسی کا اجر ضائع نہیں کرتا۔مضمون تو اور بھی بیان کرنا تھا مگر چونکہ وقت زیادہ ہو گیا ہے اس لئے اسی پر ختم کرتا ہوں۔“ (الفضل 13 نومبر 1946ء) 1 طبری جلد 4 صفحہ 322 تا 325۔مطبوعہ بیروت 1987ء