خطبات محمود (جلد 27)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 507 of 706

خطبات محمود (جلد 27) — Page 507

*1946 507 خطبات محمود رونے سے ، بچوں کے بلبلانے سے اور جانوروں کے چلانے سے فضا گونج اٹھی۔اللہ تعالیٰ نے ان کی اس گریہ وزاری کی حالت کو دیکھ کر ان سے عذاب کو ٹلا دیا۔تو دیکھو وہ عذاب جس کا اللہ تعالیٰ نے فیصلہ کیا تھا اور اللہ تعالیٰ کے نبی نے اس کی خبر بھی دے دی تھی۔لیکن ان لوگوں نے دعائیں کیں تو اللہ تعالیٰ نے ان کی دعائیں سنیں ، ان کی توبہ کو قبول کیا اور ان سے عذاب کو ٹلا دیا۔تو یہ خیال کرنا کہ دوسرے مذاہب والوں کی دعائیں نہیں سنی جاتیں یہ بالکل غلط ہے۔یہ صحیح ہے کہ نبیوں کی جماعتوں کی اکثر دعائیں سنی جاتی ہیں اور دوسروں کی دعائیں اس کثرت سے نہیں سنی جاتیں۔لیکن جن دعاؤں کے متعلق قرآن کریم نے کہا ہے۔وَمَا دُعَاء الْكَفِرِينَ إِلَّا فِي ضَل۔اس سے مراد وہ دعائیں ہیں جو نبیوں کی جماعتوں کے خلاف ہوتی ہیں۔کیونکہ اگر اللہ تعالیٰ انبیاء کے دشمنوں کی اُن دعاؤں کو بھی قبول کر لے جو وہ انبیاء کے خلاف کرتے ہیں تو تمام سچائیاں اور تمام صداقتیں دنیا سے مٹ جائیں۔ابو جہل نے بدر کے موقع پر یہ دعا کی تھی کہ اے خدا! اگر یہ محمد (صلی ) سچا ہے تو ہم پر پتھر برسا اور اگر یہ سچا نہیں ہے تو تو اسے نیست و نابود کر دے۔5 اللہ تعالیٰ نے اُس کے اپنے حصے کی نصف دعا تو قبول کر لی اور اُسے ذلت کی موت نصیب ہوئی لیکن جو اس نے رسول کریم صلی للی ترمیم کے خلاف دعا کی تھی وہ قبول نہ ہوئی۔علاوہ ابو جہل کے اور بھی بہت سے لوگ رسول کریم صلی ال نیلم کے لئے روزانہ بد دعائیں کرتے تھے لیکن اللہ تعالیٰ نے ان کی دعاؤں کو ر ڈ کیا اور آپ کی صداقت کو ثابت کر دیا۔اسی طرح موسیٰ، عیسی کے دشمن ہمیشہ بد دعائیں کرتے تھے لیکن اللہ تعالیٰ ان کی بد دعائیں نہیں سنتا تھا۔پس وَمَا دُعَاءُ الْكَفِرِينَ اِلَّا فِي ضَلَلٍ کا مطلب یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کفار کی وہ دعائیں نہیں سنتا جو نبیوں اور سچائیوں کے خلاف ہوں۔جو ذاتی دعائیں ہوتی ہیں وہ ان کی بھی سنی جاتی ہیں کیونکہ وہ بھی تو خدا تعالیٰ کے بندے ہیں۔پس ہر ایک انسان کی دعا اثر رکھتی ہے بشر طیکہ وہ دردِ دل سے کی جائے اور وہ نبیوں کے خلاف نہ ہو۔اس لئے ہماری جماعت کو خود بھی دعائیں کرنی چاہئیں اور اپنے ملنے والوں کو بھی دعاؤں کی تحریک کرنی چاہئے اور ہر ایک پر زور دینا چاہئے کہ یہ ایام خاص طور پر دعاؤں کے ہیں۔ایک آدمی کی کوتاہی سے لاکھوں بلکہ کروڑوں انسان تباہی کے گڑھے میں گر جائیں گے اور فتنہ و فساد کی آگ سے بھسم ہو کر رہ جائیں گے اور