خطبات محمود (جلد 27)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 506 of 706

خطبات محمود (جلد 27) — Page 506

*1946 506 خطبات محمود غلام ہے۔حضرت یونس کا نام نکلا۔جہاز والوں نے پکڑ کر آپ کو سمندر میں پھینک دیا اور آپ کو ایک مچھلی نے نگل لیا۔تین دن رات پیٹ میں رکھنے کے بعد ایک جگہ سمندر کے کنارے پر اُگل دیا۔چونکہ آپ کمزور اور نحیف تھے اس لئے اللہ تعالیٰ نے سایہ کے لئے ایک بیل اگادی 3 لیکن اس بیل کو کسی کیڑے نے کاٹ دیا اور وہ سوکھ گئی۔حضرت یونس نے اللہ تعالیٰ سے اُس کیڑے کے لئے بد دعا کی۔انسان کے دل میں بعض دفعہ رنج پیدا ہوتا ہے اور وہ رنج شکایت کی صورت اختیار کر لیتا ہے۔حضرت یونس نے شکایت کے طور پر اللہ تعالیٰ سے یہ عرض کیا کہ یہ بیل مجھ پر سایہ کئے ہوئے تھی، کمبخت کیڑے نے اُسے کاٹ دیا تو اسے تباہ و ہلاک کر۔یا اسی طرح کے کوئی اور الفاظ کہے۔یہ تمام واقعہ حضرت یونس کو اس لئے پیش آیا کہ اللہ تعالیٰ ان کو ایک سبق دینا چاہتا تھا۔جب وہ اپنے خیالات میں تھے تو اللہ تعالیٰ کی طرف سے الہام ہوا۔اے یونس! یہ بیل تمہاری پیدا کی ہوئی نہیں تھی یہ بیل ہماری پیدا کی ہوئی تھی۔تمہارے ساتھ اس کاصرف اتنا تعلق تھا کہ وہ تم پر سایہ کئے ہوئے تھی۔تمہیں اس کے تباہ ہونے پر کتنا افسوس ہوا ہے۔اے یونس! کیا میرے لاکھوں لاکھ بندے جن کو میں نے پیدا کیا تھا۔جب انہوں نے تو بہ کی او راپنے فعل پر پشیمان ہوئے تو میں اُن کا خیال نہ کرتا اور ان کو ہلاک کر دیتا۔4 تب حضرت یونس کو سمجھ آئی کہ میرا یہ فعل درست نہ تھا۔وہ واپس نینوا والوں کے پاس گئے۔وہاں جا کر ان کو معلوم ہوا کہ واقع میں عذاب آ گیا تھا لیکن نینوا والوں نے چونکہ توبہ کی تھی اس لئے وہ عذاب اُن پر سے ٹلا دیا گیا۔رسول کریم صلی اللہ کلام فرماتے ہیں کہ یہ ایک ہی مثال ہے کہ کسی قوم پر عذاب آ گیا ہو اور وہ تو بہ کرنے کی وجہ سے بچ گئی ہو اور وہ نینوا والوں کی مثال ہے۔جب حضرت یونس کی قوم نے عذاب کے آثار دیکھے تو انہوں نے فیصلہ کر لیا کہ عورت، مرد اور بچے سب شہر سے باہر نکل جائیں اور اپنے جانوروں کو بھی ساتھ لے جائیں اور یہ بھی فیصلہ کیا گیا کہ مائیں اپنے بچوں کو دودھ نہ پلائیں اور جانوروں کو چارہ نہ دیا جائے۔چنانچہ مردوں اور عورتوں نے دعا شروع کی۔اُدھر بچوں نے دودھ نہ ملنے کی وجہ سے بلبلانا شروع کیا اور جانوروں نے چارہ نہ ملنے کی وجہ سے چلانا شروع کیا۔بچوں کے رونے اور چلانے کی وجہ سے ماؤں اور بہنوں نے زیادہ جوش اور درد کے ساتھ دعائیں شروع کیں۔مردوں اور عورتوں کے