خطبات محمود (جلد 27)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 505 of 706

خطبات محمود (جلد 27) — Page 505

*1946 505 خطبات محمود جماعت کو چاہئے کہ وہ خصوصیت سے دعاؤں میں لگ جائے اور دوسروں کو بھی دعا کے لئے تحریک کرے۔ہماری جماعت میں سے بعض لوگ یہ خیال کرتے ہیں کہ دوسرے لوگوں کی دعاؤں میں اثر نہیں ہے لیکن یہ خیال کرنا کہ دوسروں کی دعاؤں میں اثر نہیں ہے غلط ہے۔وہ جو قرآن کریم میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے وَمَا دُعَاء الكَفِرِينَ إِلَّا فِي ضَالِ۔1 یہ اس دعا کے متعلق ہے جو نبیوں کے مخالف ہوتی ہے۔یہ نہیں کہ سچی جماعت کے سوا دوسروں کی دعائیں سُنی ہی نہیں جاتیں۔اللہ تعالیٰ جیسے ہمارا خدا ہے اسی طرح ہندوؤں، سکھوں، یہودیوں، عیسائیوں، زرتشتیوں، بدھوں اور دوسری اقوام کا بھی خدا ہے اور وہ سب کی سنتا ہے۔ہمارے سامنے یونس نبی کی مثال موجود ہے۔اللہ تعالیٰ نے ان کو الہام کیا کہ چونکہ تمہاری قوم تکذیب میں انتہاء کو پہنچ گئی ہے اس لئے تمہاری قوم ساری کی ساری تباہ کر دی جائے گی۔جا اور اپنی قوم کو خبر دے کہ چالیس دن کے اندر اندر وہ تباہی تم پر آجائے گی۔حضرت یونس چونکہ اللہ تعالیٰ کی رحمت کی صفت کے متعلق جانتے تھے کہ وہ تمام باقی امور پر حاوی ہے اس لئے انہوں نے عرض کیا کہ اے خدا! تو مجھے ابتلا میں نہ ڈال تو رحیم و کریم ہے۔وہ لوگ تو بہ کریں گے تو تو اُن کو معاف کر دے گا اور میں جھوٹا ٹھہروں گا۔اللہ تعالیٰ نے فرمایا جا جو ہم کہتے ہیں اس پر عمل کر۔بائبل میں لکھا ہے کہ حضرت یونس اپنی قوم کے پاس آئے اور انہیں اللہ تعالیٰ کا پیغام سنایا بجائے اس کے کہ وہ نیکی اور تقویٰ اختیار کرتے اُنہوں نے تمسخر اور جنسی شروع کر دی۔حضرت یونس نے ان کو بتا دیا کہ چالیس دن کے اندر اندر تم پر اللہ تعالیٰ کی طرف سے عذاب نازل ہو گا جو تمہیں تباہ و برباد کر دے گا۔حضرت یونس کچھ دنوں کے بعد اس خیال سے کہ اب میری قوم پر عذاب آنے والا ہے اپنی قوم کو چھوڑ کر باہر چلے گئے اور دور جا کر ڈیر الگالیا۔چالیس دن کے بعد آخر جب وہاں سے کوئی شخص گزرا تو حضرت یونس نے اسے پوچھا۔بتاؤ۔نینوا شہر والوں کا کیا حال ہے؟ اُس نے کہا۔سب راضی خوشی ہیں۔یہ خبر سن کر حضرت یونس وہاں سے گھبر اکر بھاگے کہ اب میں اپنی قوم کو کیا منہ دکھلاؤں گا۔2 قرآن کریم نے یہ واقعہ اس طرح بیان کیا ہے کہ حضرت یونس وہاں سے سمندر کے کنارے پر آئے اور ایک جہاز میں سوار ہوئے۔کچھ دور جا کر جہاز ہچکولے کھانے لگا۔اس پر جہاز والوں نے قرعہ اندازی کی کہ کون بھاگا ہوا )