خطبات محمود (جلد 27) — Page 468
*1946 468 خطبات محمود ان سب کے متعلق اللہ تعالیٰ نے یہ قید لگائی ہے کہ وہ موقع کے مناسب ہوں۔دیکھو نماز کتنی اعلیٰ چیز ہے۔انسان اللہ تعالیٰ کے دربار میں حاضر ہو تا ہے اُس کی تسبیح کرتا ہے، قرآن مجید نے نماز کی کتنی تعریفیں بیان کی ہیں کہ وہ انسان کے لئے اللہ تعالیٰ سے ملاقات کرنے کا ایک ذریعہ ہے۔لیکن اسی نماز کے متعلق اللہ تعالیٰ فرماتا ہے فَوَيْلٌ لِلْمُصَلِّينَ 1 کہ نماز پڑھنے والوں کے لئے عذاب اور لعنت ہے۔اس سے پتہ چلتا ہے کہ وہ نماز جو کہ اللہ تعالیٰ کے احکام کے مطابق نہ ہو وہ انسان کے لئے باعث عذاب بن جاتی ہے۔یہی حال روزہ کا ہے۔جو شخص روزہ کی شرائط ملحوظ نہیں رکھتا اس کا روزہ، روزہ نہیں۔رسول کریم صلی اللہ یکم فرماتے ہیں کہ جس شخص نے اپنی زبان کو غیبت اور گندی باتوں سے نہیں روکا اُس نے بے شک اپنے پیٹ میں روٹی نہیں ڈالی۔وہ بے شک بھوکا رہا۔لیکن اس کا روزہ نہیں ہو گا۔یہی حال دوسری عبادات کا ہے۔بعض لوگ حج کے لئے جاتے ہیں اور ان کی غرض صرف یہ ہوتی ہے کہ لوگ ہمیں حاجی کہیں اور ہماری تعریف کریں۔میں جب حج کے لئے گیا تو میں نے دیکھا کہ منی کی طرف جاتے ہوئے جو کہ تسبیح و تحمید کا وقت ہوتا ہے ایک نوجوان اردو کے عشقیہ شعر پڑھتا جارہا تھا۔مجھے حیرت ہوئی کہ آخر اسے حج کرنے کی ضرورت کیا تھی اور یہ حج کے لئے کیوں آیا؟ اتفاق کی بات ہے کہ واپسی پر جس جہاز میں میں سفر کر رہا تھا اسی جہاز میں وہ نوجوان سوار تھا۔اُسے میں نے یہ کہتے ہوئے سنا کہ یہ جہاز کیوں فرق نہیں ہو جاتا جس میں یہ شخص سفر کر رہا ہے۔اس کی مراد مجھ سے تھی۔گویا اسے اسلام کی غیرت اس قدر زیادہ تھی کہ وہ تمام جہاز والوں کو او راپنے آپ کو بھی غرق کرنا پسند کرتا تھا تا کسی طرح میں غرق ہو جاؤں۔لیکن اس کی دینی حالت یہ تھی کہ اُسے تسبیح و تحمید کے لئے چند گھڑیاں میسر آئیں وہ بھی اس نے عشقیہ شعر پڑھتے ہوئے گزار دیں۔میں نے اس سے پوچھا کہ تم منی کو جاتے ہوئے عشقیہ شعر پڑھ رہے تھے۔آخر تمہیں حج کرنے کی کیا ضرورت پیش آئی؟ اس نے کہا میں بمبئی کے علاقہ کا رہنے والا ہوں اور میرا پیشہ تجارت ہے۔پہلے ہماری دکان بہت زیادہ چلتی تھی۔لیکن ہمارے ہمسایہ میں جس شخص کی دکان تھی وہ حج کے لئے آیا اور واپس جا کر اُس نے اپنے بورڈ پر حاجی لکھا۔جس کا نتیجہ یہ ہوا کہ