خطبات محمود (جلد 27)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 439 of 706

خطبات محمود (جلد 27) — Page 439

*1946 439 خطبات محمود شرمانے کی وجہ سے چھوڑ کر بیٹھ گیا۔تو حقیقت یہ ہے کہ اسلامی ممالک میں ظاہری اسلام بھی نہیں ہے۔لیکن ہندوستان میں تو ہزاروں لاکھوں میں ظاہری اسلام موجود ہے۔بے شک ہندوستان کے مسلمانوں میں گناہ ہیں، خرابیاں ہیں لیکن دل میں اسلام کی محبت موجود ہے۔دوسرے ملکوں کے مسلمانوں پر اگر کوئی ظلم ہو تو ہندوستان کے مسلمان ان کے لئے شور مچاتے ہیں۔لڑکی پر اگر کوئی ظلم ہو تو ہندوستان کے مسلمان جان دینے کے لئے تیار ہو جاتے ہیں۔اگر مصر پر کوئی ظلم ہو تو ہندوستان کے مسلمان اس کے شریک غم بنتے ہیں۔اگر عرب پر کوئی ظلم ہو تو ہندوستان کے مسلمان مرنے مارنے پر تیار ہو جاتے ہیں۔فلسطین کے مسلمان اگر کسی تکلیف میں مبتلا ہوں تو ہندوستان کے مسلمان ان کے حصہ دار بننے کی کوشش کرتے ہیں۔اگر ایران اور افغانستان کو کوئی دوسرا ملک دبانے کی کوشش کرے تو ہندوستان کے مسلمان اس کے خلاف آواز اٹھاتے ہیں۔لیکن دوسرے اسلامی ممالک کا ہندوستان سے یہ سلوک ہے کہ آجکل ہندوستان کے مسلمانوں پر مصائب نازل ہو رہے ہیں اور ان کو دبانے کی کوشش کی جارہی ہے لیکن ان کے لئے نہ فلسطین کے مسلمانوں کے دلوں میں درد پیدا ہوتا ہے نہ مصر کے مسلمانوں کے دلوں میں درد پیدا ہوتا ہے، نہ لڑکی کے مسلمانوں کے دلوں میں درد پیدا ہوتا ہے ، نہ ہی ایران اور افغانستان کے مسلمانوں کے دلوں میں درد پیدا ہوتا ہے۔وہ جھوٹی سچی اخوت اور ہمدردی کا اظہار بھی نہیں کرتے۔ان ممالک کا ایسے موقع پر خاموش رہنا یہ بتاتا ہے کہ ان کو ہندوستان کے مسلمانوں کی تکلیف کا احساس نہیں۔ہندوستان کے متعلق جو حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی پیشگوئیاں ہیں ان سے معلوم ہوتا ہے کہ ہندوستان میں ابھی مسلمانوں کے لئے موقع ہے۔اگر وہ قدم جمانا چاہیں تو جما سکتے ہیں۔ان حالات میں ہماری جماعت کی ذمہ داریاں اور بھی بڑھ جاتی ہیں۔اسی رؤیا میں جس کا میں اوپر ذکر کر آیا ہوں اللہ تعالیٰ نے اشارہ کیا ہے کہ اب وقت آگیا ہے کہ جماعت تبلیغ کے لئے وفد در وفد نکلے اور اپنی تبلیغ کو پوری طرح کامیاب بنانے کی کوشش کرے۔پس تمام افراد جماعت کو اپنی ذمہ داریوں کو سمجھنا چاہئے اور تاریک مستقبل کو روشن بنانے کی کوشش کرنی چاہئے۔