خطبات محمود (جلد 27) — Page 401
*1946 401 خطبات محمود موجود ہے۔اٹھاتے رہیں تاکہ ہمارے اخباروں اور رسالوں کی آواز جتنے مسلمانوں تک پہنچ سکے وہ انڈونیشیا کی آزادی کی حمایت کرنے لگ جائیں۔یہ بات مسلمانوں کے سامنے بار بار آتی رہنی چاہئے۔باہر کے مبلغوں کو بھی چاہئے کہ اپنے اپنے علاقوں سے اس آواز کو بار بار اٹھاتے رہیں۔خدا تعالیٰ کے فضل سے ایران میں ہمارے مبلغ ہیں، شام میں گو اس وقت مبلغ تو نہیں لیکن وہاں جماعت فلسطین میں مبلغ موجود ہیں، مصر میں ہمارے مبلغ موجود ہیں، افریقہ کے مختلف حصوں میں ہمارے مبلغ موجود ہیں، یورپ کے پانچ ملکوں میں ہمارے مبلغ موجو د ہیں ، شمالی اور جنوبی امریکہ میں ہمارے مبلغ موجود ہیں۔اگر جماعت کے افراد اپنے اس فرض کو سمجھیں تو میں سمجھتا ہوں کہ وہ اس مقصد میں خدا تعالیٰ کے فضل سے ضرور کامیاب ہو جائیں گے۔وقتاً فوقتاً ہمارے اخباروں اور رسالوں میں ایسے مضامین چھپتے رہنے چاہئیں کہ جاوا، سماٹرا کے لوگ اس بات کے حقدار ہیں کہ ان کو آزادی دی جائے۔تعلیم اور دوسری صنعت و حرفت کے لحاظ سے وہ ترقی یافتہ ملک ہے اور وہ اتنی بڑی قوم ہے اور اس کی اتنی بڑی تعداد ہے کہ ڈچ جیسی چھوٹی قوم کو کوئی حق نہیں پہنچتا کہ وہ ان پر حکومت کرے۔غیر حکومت کی موجودگی کا سب سے پہلا فائدہ یہ ہونا چاہئے کہ وہ اس ملک کی حفاظت کر سکے لیکن ڈچ حکومت اس قابل نہیں کہ وہ انڈو نیشیا کو غیروں کے حملہ سے بچا سکے۔برطانیہ بے شک باوجو د ایک چھوٹی سی قوم ہونے کے اور باوجو د اتنے فاصلہ کے ہندوستان کی حفاظت کر رہی ہے لیکن ڈچ والے یہ نہیں کر سکتے کیونکہ ان کے پاس نہ اس قدر حفاظت کے سامان ہیں نہ ہی ان کی اتنی تعداد ہے کہ وہ کسی بڑی طاقت کا مقابلہ کر سکیں۔اسی طرح ڈچ کی حکومت اور انڈونیشیا کے لوگ نہ ہی ہم مذہب ہیں نہ ہی ہم قوم کہ انہیں حکومت کا حق حاصل ہو۔پس جب ان وجوہات میں سے کوئی وجہ بھی موجود نہیں جو کسی قوم کو دوسری قوم پر حکومت کا حق دیتی ہے کیونکہ نہ ہی ڈچ حکومت انڈونیشیا کی حفاظت کر سکتی ہے نہ ہی وہ اُن کی ہم قوم یا ہم مذہب ہے تو ایسی حالت میں ڈچ حکومت کا انڈو نیشیا کو آزادی نہ دینا سوائے اس کے اور کوئی معنے نہیں رکھتا کہ وہ اپنی اور جاوا، سماٹر اوالوں کی طاقت کو ختم کرنا چاہتی ہے۔بجائے اس کے کہ کشمکش کے ذریعہ ایک دوسرے کی طاقت کو کمزور کیا جائے ڈچ حکومت کو چاہئے کہ وہ مسلمانوں سے اتحاد کر کے ان کو آزاد کر دے تاکہ وہ