خطبات محمود (جلد 27) — Page 367
*1946 367 خطبات محمود هان وہاں انہوں نے مساجد بنائیں مگر چونکہ جہاز رانی کا کوئی باقاعدہ انتظام نہ تھا اس لئے وہ واپس نہ آسکے اور وہیں رہ گئے اور آخر امتدادِ زمانہ سے مٹ گئے۔ان لوگوں کی ہمت کا خیال کر کے انسان دنگ رہ جاتا ہے کہ کشتیوں میں ہی بیٹھ کر امریکہ پہنچ گئے اور خطرات کی ذرا بھی پروا نہ کی۔پس ہمیں دنیا کا کوئی حصہ ایسا نہیں ملتا جہاں مسلمان نہ پہنچے ہوں۔پھر دنیا کا اکثر حصہ الا کے زیر نگیں تھا سوائے حبشہ کے۔اس کی طرف مسلمانوں نے آنکھ تک اٹھا کر نہیں دیکھا کیونکہ شاہِ حبشہ کا مسلمانوں پر ایک احسان تھا۔اس سے مسلمانوں کی شرافت کا پتہ چلتا ہے کہ دنیا کے تمام ممالک کو سر کر لیا لیکن اپنے پاس اور اپنے پہلو میں حکومتِ حبشہ کی طرف نظر اٹھا کر بھی نہیں دیکھا۔مکہ میں جب کفار مکہ کی طرف سے مسلمانوں پر شدید مظالم کئے جانے لگے اور مسلمانوں کا مکہ میں رہنا محال ہو گیا۔مسلمانوں پر کفار کے مظالم کو دیکھ کر رسول کریم صلی للی کم کو بہت تکلیف ہوتی۔ایک روز آپ نے اپنے صحابہ سے فرمایا کہ اب مکہ کی تکلیف دہ صورت مجھ سے دیکھی نہیں جاتی۔بہتر ہے کہ تم لوگ یہاں سے ہجرت کر جاؤ صحابہ نے عرض کیا يَا رَسُولَ اللہ ! کیا آپ بھی ہمارے ساتھ ہجرت کریں گے ؟ آپ نے فرمایا تم لوگ ہجرت کر جاؤ میں اللہ تعالیٰ کے حکم کا انتظار کر رہا ہوں۔جب مجھے ہجرت کا حکم ہو جائے گا تو میں بھی ہجرت کر لوں گا لیکن تمہارے لئے اجازت ہے تم لوگ ہجرت کر جاؤ۔انہوں نے پوچھا يَا رَسُولَ الله ! کو نسا ملک ہے جہاں ہم ہجرت کر کے چلے جائیں؟ آپ نے حبشہ کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرمایا اس طرف سمندر کے پار ایک ملک ہے جس کی حکومت انصاف پسند اور عادل ہے اور جہاں مذہب میں دخل اندازی نہیں کی جاتی۔1 چنانچہ صحابہ حبشہ کی طرف ہجرت کر کے چلے گئے اور حبشہ میں آرام کے دن بسر کرتے رہے۔یہ وہ احسان ہے جس نے مسلمانوں کو حبشہ کے فتح کرنے سے باز رکھا۔مسلمان طوفانوں کی طرح اُٹھے اور آندھیوں کی طرح بڑھے اور موسلادھار بارش کی طرح انہوں نے زمین کا چپہ چپہ ڈھانپ دیا۔لیکن حبشہ کی طرف نظر اٹھا کر بھی نہیں دیکھا۔احسان مند قوم کس قدر چھوٹی سے چھوٹی بات کا بھی لحاظ کرتی ہے۔اور کیوں نہ کرتی جبکہ رسول کریم صلی الم نے صحابہ کو یہاں تک وصیت کی کہ میں تم کو مصر پر چڑھائی کرتے ہوئے دیکھتا ہوں۔لیکن اس بات کا خیال رکھنا کہ مصر کے لوگوں کو تکلیف میں نہ ڈالنا