خطبات محمود (جلد 27) — Page 28
*1946 28 خطبات محمود خوش قسمت وہ لوگ ہوتے ہیں جو نبی کے زمانہ میں پیدا ہوتے ہیں۔اور سب سے زیادہ خوش قسمت وہ قوم ہوتی ہے جو اس کے ابتدائی زمانہ میں ایمان لا کر خدا تعالیٰ کے نبی کے ساتھ ہر قسم کی قربانی میں شریک ہو جائے۔اس کے مقابلہ میں سب سے زیادہ بد قسمت لوگ وہ ہوتے ہیں جنہوں نے نبی کا زمانہ پایا لیکن اس کو نہ مانا۔اور پھر سب سے زیادہ بد قسمت وہ شخص ہوتا ہے جس نے نبی کا زمانہ پایا اور خدمت کے مواقع بھی آئے لیکن اس نے خدمت نہ کی اور آسمانی تحریک اور آسمانی آواز کو کمزور کرنے کا موجب ہو گیا۔پس میں جماعت کو اس امر کی طرف توجہ دلاتا ہوں کہ یہ کام کا وقت ہے باتیں بنانے کا وقت نہیں۔خدا تعالیٰ تمہارے دلوں پر نگاہ کئے بیٹھا ہے۔دنیا کے بادشاہ نہیں بعض دفعہ ایک معمولی انسان بھی آواز بلند کرتا ہے تو لوگ اپنے جوابوں کے ذریعہ فضا میں ایک گونج پیدا کر دیتے ہیں۔کسی جگہ گاندھی جی کی آواز اٹھتی ہے تو لوگ پروانہ وار اس کی طرف بھاگتے ہیں۔کسی مجلس میں مسٹر جناح کی آواز اٹھتی ہے تو لوگ پروانہ وار اس کی طرف دوڑتے ہیں۔مگر تم جانتے ہو تمہیں کس کی آواز بلا رہی ہے؟ میری نہیں، کسی اور انسان کی نہیں، کسی اور بشر کی نہیں بلکہ عرش پر بیٹھے ہوئے خدا نے ایک آواز بلند کی ہے۔تمہیں پیدا کرنے والا رب تمہیں اپنے دین کے لئے قربانی کرنے کے لئے بلاتا ہے۔دنیوی لیڈروں کی آواز پر لبیک کہنے والوں کی لبیک کا نتیجہ موت یا فتح ہو سکتی ہے اور دائی موت بھی نتیجہ ہو سکتی ہے۔مگر خدا تعالیٰ کی آواز کا جواب دینے والوں کے لئے سوائے زندگی کے کچھ نہیں۔اس کو کوئی شیطانی طاقت مار نہیں سکتی۔کیونکہ جو پیدا کرنے والے کے لئے مارا جاتا ہے وہ ہمیشہ ہی زندہ کیا جاتا ہے۔ہے تو یہ ایک کہانی اور تمسخر کی بات مگر ہندو بزرگوں نے لوگوں کو نیکی کی ترغیب دلانے کے لئے حقیقت کو ایسے واقعات میں بیان کیا ہے۔ان میں ایک کہانی مشہور ہے کہ ایک راجہ تھا اس کی اولاد نہیں ہوتی تھی۔کسی نے اسے بتایا کہ بر ہما جو اصل خدا کا نام ہے اور جو سب سے بڑا خدا ہے اور جو اولاد دینے والا ہے اس کی پرستش کرو ( ہندوؤں میں خدا تعالیٰ کے جس قدر نام ہیں وہ سب اس کی طاقتوں یا ملائکہ کے نام ہیں لیکن آہستہ آہستہ ان کو خدا کا درجہ دے دیا گیا اور انہی کی پرستش شروع کر دی گئی اور برہما کو چھوڑ دیا گیا۔اب شاید صرف ایک جگہ