خطبات محمود (جلد 27) — Page 333
خطبات محمود 333 *1946 جس طرح انفرادی ذہن کے لئے کوشش کی ضرورت ہے اسی طرح قوموں میں قومی ذہنیت بھی بہت کوشش سے پیدا ہوتی ہے۔فردی لحاظ سے کئی لوگ بہت زیرک اور ہوشیار ہوتے ہیں لیکن جب وہ قومی طور پر کسی قوم کے مقابلے میں آتے ہیں تو ہار جاتے ہیں کیونکہ ان کا ذہن قومی ذہن نہیں ہوتا اور وہ فرداًفرداً کام کرنے کے عادی ہوتے ہیں۔اس لئے اجتماعی طور پر وہ کام کر ہی نہیں سکتے۔ان کی مثال ایسی ہی ہوتی ہے جیسے قیمتی سے قیمتی ہیرے، قیمتی سے قیمتی لعل اور قیمتی سے قیمتی زمرد بے جوڑ طور پر ایک انگوٹھی میں جوڑ دیئے جائیں تو کوئی شخص انہیں پسند نہیں کرے گا۔اور خواہ ان کی قیمت کئی لاکھ روپیہ ہو کوئی انہیں سینکڑوں میں لینے پر بھی آمادہ نہ ہو گا۔لیکن معمولی سے معمولی قیمت کے پتھر عمدہ طریق سے مناسبت کے ساتھ جوڑ کر انگوٹھی میں لگائے جائیں تو ان پچاس ساٹھ روپے کے پتھروں کے سینکڑوں ہزاروں گاہک پیدا ہو جائیں گے۔اسی طرح قومی ذہن کے معنے یہ ہیں کہ ان لوگوں کے ذہنوں میں باہمی مناسبت ہو۔اگر ذہین قوموں کے حالات کو ہم بغور دیکھیں تو ہمیں نظر آتا ہے کہ ذہن ہی ہے جو ان کی اصل کامیابی کا موجب ہوتا ہے۔اس میں شبہ نہیں کہ اذہان اللہ تعالیٰ کی طرف سے عطیہ ہوتے ہیں لیکن ایک لمبے تجربہ سے یہ بات پایہ ثبوت کو پہنچ گئی ہے کہ ایک حد کے اندر جذبات، عزم، محبت اور ارادے اور ایسی ہی دوسری قوتیں کم و بیش ہو جاتی ہیں۔گویا ایک چیز اللہ تعالیٰ بناتا ہے اور اس کی تراش خراش کا اختیار انسان کے ہاتھ میں دے دیتا ہے۔مثلاً گلاب کا پودا ہے۔گارڈ ینیا کا پودا ہے، ڈرانے کا پودا ہے یہ سب پودے خدا تعالیٰ نے بنائے ہیں لیکن اسے سجانے کی قوت پھر اللہ تعالیٰ نے انسان کو عطا کی ہے۔اگر اسے اسی شکل میں چھوڑ دیا جائے جس میں خدا تعالیٰ نے اسے پیدا کیا ہے اور اس کی تراش خراش نہ کی جائے تو اس میں دیدہ زیبی کا کوئی سامان پیدا نہیں ہو گا۔لیکن جب ڈرانٹے پر مالی کی قینچی چلتی ہے، جب گارڈینیا پر مالی کی قینچی چلتی ہے تو اس کی شکل بالکل بدل جاتی ہے۔کہیں اس کی گنبد کی شکل بن جاتی ہے اور کہیں اس کے پودے دیوار میں اور دروازے نظر آنے لگتے ہیں۔اسی طرح ڈرانٹے کا درخت مالی کی قینچی چلنے کے بعد نہایت خوشنما شکل اختیار کر لیتا ہے۔کہیں اس کے بنے ہوئے عمود اور ستون نظر آتے ہیں اور کہیں خوشنما دروازے اور دیواریں نظر آتی ہیں۔اسی طرح گلاب کا پودا اپنی ذات میں