خطبات محمود (جلد 27)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 309 of 706

خطبات محمود (جلد 27) — Page 309

خطبات محمود 309 *1946 ان تمام باتوں کے آپ کی حالت یہ تھی کہ ایک دفعہ آپ نے اپنی ایک بیوی کو ایک راز کی بات بتائی اور حکم دیا کہ کسی اور کو نہ بتانا لیکن انہوں نے اپنی بعض سہیلیوں سے جو کہ رسول کریم صلی اللہ نیلم کی بیویوں میں سے ہی تھیں اس بات کا ذکر کر دیا۔اللہ تعالیٰ نے آپ کو الہاما بتادیا کہ آپ کی اس بیوی نے وہ راز آپ کی بعض دوسری بیویوں کو بھی بتا دیا ہے۔اس پر رسول کریم صلی لیکم نے ان کی تنبیہہ کے لئے یہ فیصلہ فرمایا کہ میں مسجد میں ہی رہوں گا اور گھر میں بیویوں کے پاس نہیں جاؤں گا۔آپ نے مسجد میں خیمہ نصب کرنے کا حکم دیا۔1 آپ کے حکم پر مسجد میں آپ کے لئے خیمہ لگا دیا گیا اور آپ اُسی میں رہنے لگے۔مکہ والے اپنی بیویوں سے نرمی کا سلوک نہیں کیا کرتے تھے بلکہ جس طرح پنجابی عورتوں کی درستی کا ایک ہی علاج جانتے ہیں کہ ڈنڈ الیا اور مارمار کر سیدھا کر دیا۔اسی طرح مکہ والے بیویوں سے سختی سے پیش آتے تھے اور ان کی عورتوں کو یہ جرات نہیں ہوتی تھی کہ کسی بات میں مشورہ دے سکیں یا مرد کے سامنے بول سکیں۔مدینہ میں مکہ کی نسبت کسی حد تک عورتوں کو زیادہ آزادی تھی۔گو اللہ تعالیٰ نے رسول کریم صلی علیم کے ذریعہ جو آزادی عورتوں کو دلائی وہ اس پہلی آزادی سے بہت بڑھ کر ہے۔بہر حال مدینے کی عورتیں کبھی کبھار اپنے مردوں کے سامنے بول لیتی تھیں لیکن مکہ والوں میں ابھی وہی سختی باقی تھی۔جب رسول کریم صلی علیم نے مسجد میں ڈیر الگالیا و صحابہ میں چہ میگوئیاں ہونی شروع ہو گئیں کہ آپ نے اپنی بیویوں کو طلاق دے دی ہے۔چنانچہ ایک صحابی گھبر ائے ہوئے حضرت عمرؓ کے پاس پہنچے۔حضرت عمر مدینہ سے دو تین میل باہر ایک گاؤں میں رہتے تھے۔حضرت عمر فرماتے ہیں اُن دنوں ہمیں گزارے کی تنگی تھی اس لئے ہم لوگ روزانہ رسول کریم ملی کی کمی کی مجلس میں حاضر نہ ہو سکتے تھے بلکہ ہم نے باریاں مقرر کی ہوئی تھیں۔ایک ساتھی جاتا اور وہ سارا دن رسول کریم على الم کی صحبت میں رہتا اور شام کو واپس آکر رسول اللہ صلی الم کی مجلس کی ساری باتیں اپنے ساتھی کو سناتا۔دوسرے دن وہ کام کرتا اور اس کا وہ ساتھی جو پہلے دن نہیں گیا تھا رسول کریم سلام کی مجلس میں جاتا، آپ کی باتیں سنتا اور شام کو واپس آکر تمام باتیں اپنے ساتھی کو سناتا۔جس دن یہ واقعہ ہوا اس دن حضرت عمرؓ کے ساتھی کی باری تھی۔جب وہ مدینہ سے واپس گئے تو اُنہوں نے حضرت عمرؓ سے کہا۔عمر! تجھے پتہ ہے کہ مدینہ میں کیا ہو گیا ہے ؟ حضرت عمرؓ نے پوچھا ها الشرسة