خطبات محمود (جلد 27)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 21 of 706

خطبات محمود (جلد 27) — Page 21

*1946 21 خطبات محمود زندہ کوٹنا نہیں تو تمہاری لاشیں میدانِ جنگ میں پڑی ہوئی نظر آئیں۔اگر تم نے میرا یہ حکم نہ مانا تو میں قیامت کے دن تمہیں دودھ نہیں بخشوں گی۔لڑکوں نے کہا۔ہاں اماں ہمیں منظور ہے۔یہ کہہ کر وہ روانہ ہو گئے۔6 سب سے بڑی مصیبت جو مسلمانوں کو اس جنگ میں پیش آئی وہ یہ تھی کہ ایرانی اس جنگ میں لڑائی کے سدھائے ہوئے ہاتھی مقابلہ پر لے آئے تھے۔جب کوئی گھوڑا یا اونٹ ہاتھیوں کے سامنے آتا تھا تو بھاگ جاتا تھا۔ایک مسلمان جرنیل آیا اور اس نے ان تینوں میں سے دو بھائیوں کو کہا کہ تم میرے ساتھ مل کر چلو۔ہم سامنے سے ہاتھیوں پر حملہ کر دیں۔گو موت یقینی ہے لیکن امید ہے کہ اس طرح باقی مسلمان بچ جائیں گے۔انہوں نے کہا ہمیں منظور ہے۔ہاتھی پر سامنے سے حملہ کرنا بہت مشکل ہوتا ہے کیونکہ جو لڑائی کے لئے سدھائے ہوئے ہاتھی ہوتے ہیں وہ آدمی کو سونڈ میں لپیٹ کر زمین سے اٹھا کر دے مارتے ہیں۔انہوں نے جاتے ہی سردار لشکر کے ہاتھی پر حملہ کر دیا۔دونوں بھائیوں میں سے ایک ہاتھی کے دائیں طرف ہو گیا اور دوسرا بائیں طرف اور وہ جرنیل خود سامنے کھڑا ہو گیا۔جب سامنے سے جرنیل حملہ کرتا تو ہاتھی دائیں بائیں منہ پھیر تا۔جب ہاتھی دائیں طرف منہ کرتا تو دائیں طرف والا اس کی سونڈ پر تلوار مارنے کی کوشش کرتا۔ہا تھی اسے اپنی سونڈ سے اٹھا کر زمین پر دے مارتا۔پھر جب ہاتھی بائیں طرف منہ کرتا تو دوسرا بھائی اس کی سونڈ پر تلوار مارنے کی کوشش کرتا۔ہاتھی اسے بھی اپنی سونڈ سے اٹھا کر زمین پر دے مارتا لیکن وہ دونوں بھائی اس کے پہلوؤں سے نہ ہٹے حتی کہ انہوں نے اسے بُری طرح زخمی کر دیا۔آخر ہاتھی گھبرا کر پیچھے بھاگا۔اس ہاتھی کا بھاگنا تھا کہ دوسرے اس کے ساتھ کے ہاتھی بھی بھاگ نکلے اور ہاتھیوں کے بھاگنے سے دوسرے لشکر میں کھلبلی مچ گئی اور سارا ایرانی لشکر بھاگ نکلا اور اسلامی لشکر نے فتح پائی۔پس یہ بھی عورتیں تھیں جنہوں نے اپنے بچوں کا میدانِ جنگ میں شہید ہونا پسند کیا اور ناکامی کی صورت میں ان کا منہ دیکھنا پسند نہ کیا۔اور آج وہ عورتیں ہیں کہ بچوں کو زندگی قربان کرنے کی تعلیم دینا تو الگ رہا انہیں زندگی وقف کرنے سے روکتی ہیں۔اصل بات یہ ہے کہ عورتوں میں جذباتی رنگ بہت غالب ہوتا ہے۔اگر ان کے جذبات سے اپیل کی جائے تو وہ نیکی میں کہیں سے کہیں نکل جاتی ہیں۔