خطبات محمود (جلد 27)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 20 of 706

خطبات محمود (جلد 27) — Page 20

*1946 20 خطبات محمود اسی طرح بعض لڑکے اپنے آپ کو وقف کرنا چاہتے ہیں اور ماں باپ روکتے ہیں کہ زندگی وقف نہ کرو بلکہ کسی دوسری جگہ ملازمت کر لو۔چندہ سے دین کی خدمت کرتے رہنا حالانکہ جہاں آدمیوں کی ضرورت ہوتی ہے وہاں چندہ سے کام نہیں بنتا۔میرے نزدیک اس کی ایک حد تک ذمہ داری لجنہ اماء اللہ پر بھی ہے۔اگر لجنہ اماء اللہ دین کی ضرورتوں اور وقف کی اہمیت کو اچھی طرح عورتوں کے ذہن نشین کرا دے تو سال کے اندر اندر جس طرح کہتے ہیں کہ زمین نے اپنا کلیجہ نکال کر باہر رکھ دیا اسی طرح عور تیں بھی اپنا کلیجہ نکال کر باہر رکھ دیں۔عورتوں کا کلیجہ اولاد ہوتی ہے۔اگر مائیں اپنے لڑکوں کو زندگی وقف کرنے اور دوسرے دینی کاموں میں حصہ لینے کی تحریک کریں تو میں سمجھتا ہوں کہ بہت زیادہ نوجوان اپنے آپ کو وقف کرنے لگ جائیں۔اسلامی تاریخ میں ایک واقعہ آتا ہے کہ اسلامی لشکر کو ایک جگہ کچھ شکست ہوئی۔حضرت عمر نے تمام آدمی جو مہیا کئے جاسکتے تھے اس لشکر کی مدد کے لئے بھیج دیئے مگر لشکر پھر بھی کم تھا۔ایرانی لشکر کی تعداد ایک لاکھ تھی اور مسلمانوں کے لشکر کی تعداد تیس ہزار تھی اور جس مقام پر یہ جنگ ہو رہی تھی اس مقام کے درمیان اور مدینے کے درمیان کوئی روک نہ تھی۔اسلامی جرنیل نے اس وقت ایک تقریر کی کہ تم آج اسلام کے احیاء اور بقا کے ذمہ دار ہو۔اگر تم آج شکست کھا گئے تو تمہارے اور مدینے کے درمیان کوئی فوج نہیں جو اس لشکر کو روک سکے۔اگر دشمن یہاں سے نکل گیا تو سیدھا مدینے پر جا کر حملہ کرے گا۔اس وقت خنساء نامی ایک مشہور شاعرہ عورت نے اپنے تینوں لڑکوں کو بلایا اور کہا۔تمہارا باپ بد کار تھا۔میں اپنے بھائی سے قرض لا لا کر اسے دیتی رہی۔آخر وہ مر گیا اور تم چھوٹے چھوٹے رہ گئے۔میں نے محنت مزدوری کر کے تمہیں پالا اور اپنی ساری زندگی پاکیزگی اور پاکدامنی سے گزاری اور تم ان تمام باتوں کے گواہ ہو۔انہوں نے کہا ہاں۔پھر خنساء نے کہا تمہیں معلوم ہے کہ میں نے تمہیں بہت محنت و مشقت سے پالا ہے۔اور اس کے بدلے میں تم سے کوئی خدمت نہیں لی؟ انہوں نے کہاہاں ٹھیک ہے۔پھر ماں نے کہا تم میرے تین بچے ہو اور تمہارے بغیر میر ادنیا میں کوئی نہیں اور میری محبت تمہاری خدمت سے ظاہر ہے۔دیکھو! آج اسلام پر ایسا وقت ہے کہ اسے لڑائی کے لئے آدمیوں کی ضرورت ہے۔اس لئے تم لڑائی میں جاؤ۔اگر شام کو فتح پا کر لوٹے تو