خطبات محمود (جلد 27)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 271 of 706

خطبات محمود (جلد 27) — Page 271

خطبات محمود 271 $1946 ہمارے پاس آجائے گا۔مگر تجارت وہی کرتا ہے جس کے پاس سرمایہ سے کوئی چیز خریدی ہوئی ہوتی ہے۔جس شخص نے کوئی چیز خریدی ہی نہیں وہ بیچے گا کیا اور اسے نفع کیا حاصل ہو گا۔ہم بھی اگر اس وقت بیج کے طور پر اپناروپیہ زمین میں پھینکتے چلے نہیں جاتے تو روپیہ ہمارے پاس آئے گا کہاں سے ؟ جو زمیندار فصل بوتا ہے وہی کاتا ہے۔اگر آج ہم کچھ بوتے نہیں تو دین کی فصل کاٹنے کی امید بھی نہیں رکھنی چاہئے۔اسی طرح میں نے کالج کے لئے چندہ کی تحریک کی تھی۔در حقیقت ہمارا کالج نوجوانوں میں روحانیت اور دین پیدا کرنے کے لئے ایک نہایت ہی ضروری چیز ہے۔اب جبکہ ہماری جماعت کی تعلیم کی طرف زیادہ توجہ تھی، امراء بھی ہماری جماعت میں زیادہ تھے اور سامان بھی ہمیں پہلے سے زیادہ میسر تھے۔دو باتوں میں سے ایک بات لازمی تھی۔یا تو ہمارے طالب علم بیرونی کالجوں میں تعلیم پانے پر مجبور ہوتے اور یا پھر وہ عیاشیوں میں مبتلا ہو جاتے۔پس در حقیقت اب وقت آگیا تھا کہ کالج قائم کیا جاتا۔یا یوں کہنا چاہئے کہ اب وقت آگیا تھا کہ اگر کالج قائم نہ کیا جاتا تو ہماری آئندہ نسل اسلام سے غافل اور بے دین ہو جاتی۔پس میں نے کالج کی تحریک کی اور وہ قائم ہوا۔اب کالج خدا تعالیٰ کے فضل سے بی۔اے کے سالوں میں داخل ہو رہا ہے اور یونیورسٹی کی طرف سے اس کی اجازت آچکی ہے۔چنانچہ دو تین دن ہوئے یونیورسٹی نے اجازت دے دی ہے کہ کالج میں بی۔اے اور بی۔ایس۔سی کی کلاسز کھول دی جائیں۔آجکل ہر چیز روپیہ سے بنتی ہے۔ہم نے بجٹ بنایا تو کالج کا کم سے کم بجٹ دو لاکھ پانچ ہزار روپیہ کا تیار ہوا۔میں نے جماعت کے دوستوں سے کالج کے لئے تین لاکھ روپیہ کی اپیل کی تھی مگر مجھے افسوس ہے کہ باوجود اس کے کہ میری اس تحریک پر تین ماہ گزر رہے ہیں۔اب تک صرف ایک لاکھ دو ہزار کے وعدے آئے ہیں اور چونکہ سارے وعدے پورے نہیں ہوتے اس لئے یوں سمجھنا چاہئے کہ ایک لاکھ دو ہزار میں سے صرف اسی نوے ہزار وصول ہوں گے۔حالانکہ ہمیں ضرورت دو لاکھ کی ہے اور وہ بھی اس سال ضرورت ہے۔ہم اس چندہ کو اگلے سالوں تک پھیلا نہیں سکتے کیونکہ اگلے سالوں کے لئے ہمارے ذہن میں بعض اور سکیمیں ہیں جو جاری کی جانے والی ہیں۔یہ میں نے اس لئے کہا ہے کہ ممکن ہے کوئی شخص کہہ دے کہ