خطبات محمود (جلد 27)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 272 of 706

خطبات محمود (جلد 27) — Page 272

*1946 272 خطبات محمود اگر جماعت کی طرف سے ابھی دولا کھ کے وعدے نہیں آئے تو اس میں گھبراہٹ کی کونسی بات ہے۔جو کمی رہے گی وہ اگلے سال پوری ہو جائے گی۔ایسا خیال درست نہیں۔اگر ہم اس سال کی سکیم کو اگلے سال پر ترک کر دیں گے تو اگلے سال کی سکیم کو کہاں لے جائیں گے۔ہمارے لئے بہر حال ضروری ہے کہ ہم اپنے فرائض کی اہمیت کو سمجھیں اور جس چیز کی فوری طور پر ضرورت ہو اسے فوری طور پر مہیا کریں۔ہمارے سامنے ایک بہت بڑا کام ہے اور بہت بڑی ذمہ داری ہے جو ہم پر عائد ہوتی ہے۔جس عمارت سے ہم نے دنیا کو اسلام کے مقابلہ میں شکست دینی ہے اور جس کفر کا ہم نے مقابلہ کرنا ہے اس کے ایک ایک شہر کی یونیورسٹی پر ڈیڑھ ڈیڑھ ، دو دو کروڑ روپیہ لگا ہوا ہے۔ہندوؤں نے بنارس یونیورسٹی پر ہی ڈیڑھ دو کروڑ روپیہ خرچ کیا ہوا ہے اور ان کے جو دوسرے کالج ہیں وہ اس کے علاوہ ہیں۔اسی طرح لاہور کے آریہ سماج کالج کے متعلق پچھلے دنوں میں نے پڑھا کہ اس کی جائیداد کی موجودہ قیمت ڈیڑھ کروڑ روپیہ ہے۔حالانکہ آریہ سماج کے پنجاب میں پندرہ ہیں اور بھی کالج ہیں۔پھر اگر آریہ سماج کی اور جائیدادوں اور شدھی کے صیغوں کے اخراجات کو شامل کر دیا جائے تو میں سمجھتا ہوں آریہ سماج کا پنجاب میں سات آٹھ کروڑ روپیہ لگ چکا ہے۔پھر اگر سناتن دھرمیوں اور عیسائیوں اور سکھوں کو ملالیا جائے تو میں سمجھتا ہوں کہ ان کی مختلف کوششوں پر اب تک تیس کروڑ سے کم روپیہ صرف نہیں ہوا ہو گا۔اور یہ صرف پنجاب کی حالت ہے۔اس کے بعد سارے ہندوستان کو لو، پھر سارے ایشیا کولو ، پھر ساری دنیا کو لو اور اندازہ لگاؤ کہ اب تک لوگ ان کاموں پر کتنا روپیہ صرف کر چکے ہیں؟ اس کے مقابلہ میں بے شک ہمارے مبلغ کم خرچ کر سکتے ہیں، بے شک ہمارے مبلغ آدھے پیٹ سے روٹی کھا سکتے ہیں، بے شک ہمارے آدمی چھ گھنٹے کی بجائے اٹھارہ گھنٹے کام کر سکتے ہیں لیکن خدا تعالیٰ نے ان کو انسان بنایا ہے۔ہم ان سے یہ تقاضا نہیں کر سکتے کہ تم فرشتوں کی طرح بن جاؤ اور انسانی حوائج اور ضروریات سے بالا ہو جاؤ۔آخر قربانی ایک حد تک چلے گی۔اس سے زیادہ نہیں۔پھر قربانی کا مطالبہ کرنے والے کے لئے بھی تو ضروری ہوتا ہے کہ وہ اپنا منہ شیشہ میں دیکھے کہ میں جو دوسروں سے قربانی کا مطالبہ کر رہا ہوں خود کیا کر رہا ہوں۔ایک شخص جو روپیہ میں سے ایک آنہ دے کر بھوکا نہیں سو تا اور کہتا ہے کہ کیوں ہمارا مبلغ