خطبات محمود (جلد 27)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 19 of 706

خطبات محمود (جلد 27) — Page 19

*1946 19 خطبات محمود آئندہ اچھے یا برے مستقبل کی ذمہ دار ہوتی ہیں کیونکہ بچہ اکثر اخلاق چھوٹی عمر میں سیکھتا ہے۔اگر مائیں کڑی نگرانی کریں اور ان کے اندر کوئی بری عادت پیدا نہ ہونے دیں تو وہ بڑے ہو کر بہت حد تک بری عادات سے محفوظ رہتے ہیں۔لیکن اگر بچپن میں ہی بچے کو چوری کی یا جھوٹ بولنے کی یا کوئی اور بری عادت پڑ جائے اور والدین پیار کی وجہ سے اسے اس عادت سے باز نہ رکھیں تو وہ بڑا ہو کر اس عادت کو نہیں چھوڑ سکتا۔ہمارے ملک میں مشہور ہے کہتے ہیں کہ کوئی ماں تھی اس کا لڑ کا چور ہو گیا۔پھر چور سے ڈاکو بنا۔ایک دفعہ ڈاکہ میں اس سے قتل ہو گیا۔اس قتل کی وجہ سے اسے پھانسی کی سزا ملی۔جب اسے پھانسی دینے لگے تو اس نے کہا کہ مجھے اجازت دی جائے کہ میں اپنی ماں سے ایک بات کر لوں۔اس پر ماں کو بلایا گیا۔جب وہ آئی تو اس نے کہا میں اس سے کان میں بات کرنا چاہتا ہوں۔انہوں نے کہا اسی طرح کر لو۔اس نے اپنا منہ ماں کے قریب لے جا کر زور سے اس کے کتے کو کاٹا۔ماں چیخیں مارتی ہوئی پیچھے کو بھاگی۔لوگوں نے اس کو لعنت ملامت کی کہ تم بڑے بد کردار آدمی ہو ، تمہیں پھانسی مل رہی ہے اور پھر بھی تم نے اس سے عبرت حاصل نہیں کی اور تمہارا دل نرم نہیں ہوا۔اب تم نے ماں کے کلے پر کاٹ کھایا ہے۔اس نے کہا۔آپ لوگوں کو علم نہیں کہ مجھ کو یہ پھانسی میری ماں کی وجہ سے مل رہی ہے۔میراکلہ کاٹنا پھانسی کے مقابلہ میں کچھ بھی حقیقت نہیں رکھتا۔اصل بات یہ ہے کہ میری ماں کو میری جگہ پھانسی ملنی چاہئے تھی۔پھر اس نے بتایا کہ میں چھوٹا بچہ تھا لیکن آوارہ پھر ا کر تا تھا۔اگر کوئی شخص میری ماں سے میرے متعلق کوئی شکایت کرتا تو میری ماں اس سے لڑتی تھی کہ میر ابچہ تو ایسا نہیں۔یہ لوگ دشمنی سے ایسا کہتے ہیں۔پتہ نہیں کیوں ان کو میرے بچے سے دشمنی ہو گئی ہے میرا بچہ تو نالائق نہیں۔میں مدرسے سے پنسل، کاغذ، قلم، دوات وغیر پچرا کر لاتا تو میری ماں مجھے کہتی یہاں نہ رکھو کوئی دیکھ لے گا وہاں رکھو۔اگر کوئی شخص میری چوری کے متعلق شکایت کرتا تو میری ماں اسے گالیاں دیتی کہ ناحق میرے بچے کو بدنام کر رکھا ہے۔ان باتوں سے میں چور بنا اور پھر چور سے ڈاکو بنا۔پھر ڈا کہ میں مجھ سے یہ قتل ہوا جس کی وجہ سے مجھے پھانسی پر لٹکایا جارہا ہے۔اس قتل کی ساری ذمہ داری میری ماں پر ہے۔اس لئے اس کا کلمہ کاٹا جانے کی بجائے در حقیقت پھانسی کی سزا اسے ملنی چاہئے تھی نہ کہ مجھے۔