خطبات محمود (جلد 27) — Page 248
*1946 248 خطبات محمود باتیں کی جاتی ہیں مگر ان باتوں کے پس پردہ مذہب کا اثر غالب ہوتا ہے اور جب کیفیت یہ ہو تو اس کا کیا علاج ہو سکتا ہے۔سننے والوں میں سے ناواقف لوگ بے شک دھوکا کھا جائیں گے اور وہ سمجھیں گے کہ یہ سیاست کی باتیں ہو رہی ہیں لیکن جاننے والے جانتے ہیں کہ یہ محض سیاسی باتیں نہیں بلکہ مذہبی تعصب بھی ان کے دلوں پر اثر ڈال رہا ہے۔ان حالات میں ملک کے لئے جو خطرات پیدا ہو سکتے ہیں وہ ظاہر ہیں۔دوسری صورت یہ ہو سکتی تھی کہ مسلمان واقع میں مسلمان ہوتے۔اگر مسلمان واقع میں مسلمان ہوتے تب بھی ان کے لئے ڈرنے کی کوئی وجہ نہیں تھی۔جو قوم مرنے کے لئے تیار ہو جاتی ہے اس قوم کو کبھی کوئی مار نہیں سکتا۔مسلمان اپنے متعلق کہتے ہیں ہم دس کروڑ ہیں اور بظاہر یہ معلوم ہوتا ہے کہ ان کا دعویٰ صحیح ہے اور وہ واقع میں دس کروڑ ہی ہیں۔لیکن میں کہتا ہوں دس کروڑ نہیں۔اگر مسلمان پانچ کروڑ ہوتے بلکہ میں کہتا ہوں پانچ کروڑ بھی نہیں اگر مسلمان دو کروڑ ہوتے بلکہ دو کروڑ بھی نہیں، اگر مسلمان ایک کروڑ بھی ہوتے تب بھی انتالیس کروڑ آدمی کبھی ان پر جابرانہ حکومت نہیں کر سکتے تھے۔سوال صرف اس بات کا ہوتا ہے کہ کیا لوگ اپنی زندگی کو زیادہ قیمت دیتے ہیں یا اپنے اصول کو زیادہ قیمت دیتے ہیں ؟ جس قوم کے لوگ اپنے اصول کو زیادہ قیمت دیتے ہیں اُس قوم کو کوئی مار نہیں سکتا۔اور جس قوم کے لوگ اپنی زندگی کو زیادہ قیمت دیتے ہیں اس قوم کو کوئی بچا نہیں سکتا۔ہمارے ہندوستان میں مسلمانوں کی طرف سے پاکستان کا شور مچایا جاتا رہا ہے مگر اس تمام شور کے باوجود خود مسلمانوں میں سے ہی ایک طبقہ ہمیشہ خریدا جاتا رہا ہے۔ہندوستان کا کوئی صوبہ بھی تو ایسا نہیں جس میں کونسل کے ممبر یا باہر کے مسلمانوں میں سے کچھ خریدے نہ گئے ہوں۔آخر یہ فرق کیوں ہے؟ کہنے والا کہہ سکتا ہے کہ یہ فرق اس لئے ہے کہ مسلمانوں کے اخلاق کمزور ہیں۔مگر سوال یہ ہے کہ جب مسلمانوں کے اپنے اخلاق کمزور ہیں تو پھر کمزور اخلاق والوں کو کونسا قانون بچا سکتا ہے۔میرے نزدک جو غلطی ابتدا میں ہی مسلم لیگ سے ہوئی وہ یہ تھی کہ صرف سیاسی حقوق کی حفاظت اصل چیز سمجھ لی گئی اور وہ اصولی چیزیں جو کسی قوم کو بچایا کرتی ہیں