خطبات محمود (جلد 27) — Page 13
*1946 13 خطبات محمود دو پوستی ایک بیری کے درخت کے نیچے لیٹے ہوئے تھے۔ان کے پاس سے ایک سپاہی گزرا تو ان میں سے ایک نے اس سپاہی کو آواز دی۔میاں سپاہی ! خدا کے واسطے میری بات سننا۔سپاہی سمجھا کہ کوئی بے چارہ مصیبت میں مبتلا ہو گا۔جب وہاں گیا تو دیکھا کہ دو آدمی وہاں لیٹے ہوئے ہیں۔سپاہی نے ان سے پوچھا کیوں بھئی! تم نے مجھے کس لئے بلایا ہے؟ ان میں سے ایک نے کہا۔میاں سپاہی ! تمہیں اس لئے بلایا ہے کہ یہ بیر جو میری چھاتی پر پڑا ہے ذرا تکلیف کر کے میرے منہ میں ڈال دینا۔سپاہی کو بہت غصہ آیا۔ایک تو بات ہی غیر معقول تھی اور دوسرے وہ تھا بھی سپاہی۔اس نے اسے گالیاں دینی شروع کیں۔خبیث، بدمعاش، تونے مجھے سو گز سے بلایا۔کمبخت ! تیرے ہاتھ موجود نہیں کہ تو چھاتی سے بیر اٹھا کر منہ میں ڈال لے۔اس کا ساتھی بولا میاں سپاہی ! یہ ایسا کمبخت ہے کہ اس کی بات کچھ نہ پوچھو ساری رات کتا میر امنہ چاہتا رہا ہے اس نے ہشت تک نہیں کی۔یہی حال ہمارے ان اساتذہ کا ہے۔ہر کام میں کہتے ہیں کہ انجمن کچھ نہیں کرتی، خلیفہ ہماری مدد نہیں کرتا۔ان سے کوئی پوچھے کہ پڑھانا تم نے ہے یا ہم نے؟ کیا ہمارے پاس کوئی اور کام نہیں ہے ہم اپنے محکموں میں کام کریں یا تمہارا کام کریں؟ یہ تمہارا فرض تھا کہ اگر لڑکے کام نہیں کرتے تھے تو تم ان کے ماں باپ کو بلاتے اور ان کو ان کے حالات سے آگاہ کرتے۔محلوں میں جلسے کرتے اور ان کو اس کی طرف متوجہ کرتے۔آخر محبت اور پیار کے ساتھ ہزاروں باتیں ہو جاتی ہیں پھر یہ کس طرح ممکن ہے کہ تم ان کو محبت اور پیار سے بار بار کہتے ، ان کے والدین کو توجہ دلاتے تو وہ لڑکے شدھر نہ جاتے۔اگر بفرض محال بار بار توجہ دلانے کے بعد بھی کچھ رہ جاتے جو اس طرف متوجہ نہ ہوتے تو پھر تم ان کو قواعد کے مطابق سزائیں دیتے۔یہ سب کچھ ہو سکتا ہے لیکن وہ چاہتے ہیں کہ آرام سے بیٹھے رہیں اور ان کا کام کوئی اور کر دے۔پس میرے نزدیک اس کی کلی طور پر ذمہ داری سکول کے عملہ پر ہے اور کالج کے لڑکوں کی ذمہ داری کالج کے عملہ پر ہے۔اگر سکول یا کالج کا نتیجہ خراب ہو اور کالج یا سکول کا عملہ اس پر غذر کرے تو میں تو کہوں گا یہ منافقانہ بات ہے۔اگر لڑکے ہوشیار نہیں تھے ، اگر لڑ کے محنت نہ کرتے تھے اور اگر لڑکے پڑھائی کی طرف متوجہ نہ ہوتے تھے تو ان کا کام تھا کہ وہ ایک ایک کے پاس جاتے اور ان کی اصلاح کرتے۔اگر وہ متوجہ نہ ہوتے تو ان کے ولیا