خطبات محمود (جلد 27)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 180 of 706

خطبات محمود (جلد 27) — Page 180

*1946 180 خطبات محمود اور کہیں کہ پہلے ہماری بات مانی جائے پھر ہم راضی ہوں گے۔اگر بچے اپنے ماں باپ سے کپڑوں کے لئے روٹھ سکتے ہیں، اگر بچے اپنے ماں باپ سے کھانے پینے کی چیزوں کے لئے روٹھ سکتے ہیں، اگر بچے اپنے ماں باپ سے جوتی اور بوٹ کے لئے روٹھ سکتے ہیں،اگر بچے اپنے ماں باپ سے روٹھ کر انہیں یہ کہہ سکتے ہیں کہ ابا جب تک آپ فلاں کپڑا مجھے خرید کر نہیں دیں گے میں کھانا نہیں کھاؤں گا، یا اماں جب تک مجھے فلاں چیز نہ دی گئی میں کھانا نہیں کھاؤں گا۔تو کیا وہ خدا اور اس کے رسول اور اس کے دین کے لئے اپنے ماں باپ سے روٹھ نہیں سکتے ؟ کیا وہ اپنے ماں باپ سے یہ نہیں کہہ سکتے کہ ہمیں خدا تعالیٰ کے دین کی خدمت کرنے کا موقع دیا جائے ورنہ ہم روٹھے رہیں گے اور کوئی چیز نہ کھائیں گے نہ پئیں گے۔ستیہ گرہ کے متعلق کہا جاتا ہے کہ یہ گاندھی جی کی ایجاد ہے حالانکہ ستیہ گرہ وہ چیز ہے جو بچوں نے آدم کے وقت سے ایجاد کی ہوئی ہے۔گاندھی جی کی ستیہ گرہ تو ہم نے 1918ء یا 1919ء میں سنی ہے مگر ہم تو خود اپنے بچپن کے زمانہ میں کئی دفعہ ستیہ گرہ کیا کرتے تھے۔بسا اوقات کسی بات پر خفا ہو کر ہم کھانا کھانا چھوڑ دیتے تھے اور گھر والے ہمیں منانے کی کوشش کرتے تھے۔اس ستیہ گرہ میں کئی دفعہ ہم اپنی بات ماں باپ سے منوالیا کرتے تھے اور کئی دفعہ گاندھی جی کی طرح ہم شکست کھا کر روزہ توڑ دیا کرتے تھے۔بہر حال یہ ایک ایسی چیز ہے کہ دنیا میں ہمیشہ سے ہوتی چلی آئی ہے۔پس اگر ماں باپ کے دلوں میں یہ رغبت نہیں پائی جاتی کہ وہ اپنے بچوں کو دین کی خدمت کے لئے پیش کریں تو کیوں بچے خود صحن میں ستیہ گرہ کر کے نہیں بیٹھ جاتے اور کیوں اپنے ماں باپ سے نہیں کہتے کہ آپ ہماری زندگیوں کو کیوں تباہ کرتے ہیں اور کیوں ہمیں خدا تعالیٰ کے دین کی خدمت کے لئے جانے نہیں دیتے۔آخر کام تو سامانوں سے ہی ہو ا کرتے ہیں۔روحانی کام ہوں یا جسمانی سب میں اسباب اور سامان ضروری ہوتے ہیں۔اس قانون کے مطابق ہمارے لئے بھی ضروری ہے کہ روحانی ترقی کے اللہ تعالیٰ نے جو سامان پیدا کئے ہیں ان سے فائدہ اٹھائیں اور ان کو زیادہ سے زیادہ حاصل کرنے کی کوشش کریں۔اگر ہم ان سامانوں کو حاصل نہیں کرتے تو یقیناً ہم اپنی کامیابی کو دور پھینکتے چلے جاتے ہیں۔خدائی کام تو بہر حال ہو کر رہیں گے اور اسلام دوسرے ادیان پر ضرور غلبہ حاصل کرے گا۔یہ وہ خدائی تقدیر