خطبات محمود (جلد 27) — Page 152
*1946 152 خطبات محمود اور بعض شاید انٹرنس فیل بھی۔مگر بہر حال ہائی سکول کا نام ہو گیا۔زیادہ خرچ کرنے کی جماعت میں طاقت نہ تھی اور نہ ہی یہ خیال پیدا ہو سکتا تھا مگر آخر وہ وقت بھی آگیا کہ گور نمنٹ نے اس بات پر خاص زور دینا شروع کیا کہ سکول اور بورڈنگ بنائے جائیں۔نیز یہ کہ سکول اور بورڈنگ بنانے والوں کو امداد دی جائے گی۔چنانچہ حضرت خلیفہ اول کے عہد خلافت میں یہ سکول بھی بنا اور بورڈنگ بھی۔پھر آہستہ آہستہ عملہ میں اصلاح شروع ہوئی اور طلباء بڑھنے لگے۔پہلے ڈیڑھ سو تھے پھر تین چار سو ہوئے پھر سات آٹھ سو ہو گئے اور مدتوں تک یہ تعداد رہی۔اب تین چار سالوں میں آٹھ سو سے یکدم ترقی کر کے سکول کے لڑکوں کی تعداد سترہ سو ہو گئی ہے اور میں نے سنا ہے کہ ہزار سے اوپر لڑکیاں ہو گئی ہیں۔گویا لڑکے اور لڑکیوں کی تعداد ملا کر قریباً تین ہزار بن جاتی ہے۔پھر مدرسہ احمدیہ بھی قائم ہوا اور کالج بھی۔اب خدا تعالیٰ کے فضل سے مدرسہ احمدیہ میں بھی میری گزشتہ تحریک کے ماتحت طلباء بڑھنے شروع ہو گئے ہیں اور پچھیں تیں طلباء ہر سال آنے شروع ہو گئے ہیں۔اگر یہ سلسلہ بڑھتا رہا تو مدرسہ احمدیہ اور کالج کے طلباء کی تعداد بھی چھ سات سو تک یا اس سے زیادہ تک پہنچ جائے گی اور اس طرح ہمیں سو مبلغ ہر سال مل جائے گا۔جب تک ہم اتنے مبلغین ہر سال حاصل نہ کریں ہم دنیا میں صحیح طور پر کام نہیں کر سکتے۔1944ء میں میں نے کالج کی بنیاد رکھی تھی کیونکہ اب وقت آگیا تھا کہ ہماری آئندہ نسل کی اعلیٰ تعلیم ہمارے ہاتھ میں ہو۔ایک زمانہ وہ تھا کہ ہماری جماعت میں بہت چھوٹے عہدوں اور بہت چھوٹی آمدنیوں والے لوگ شامل تھے۔بے شک کچھ لوگ کالجوں میں سے احمدی ہو کر جماعت میں شامل ہوئے لیکن وہ حادثہ کے طور پر سمجھے جاتے تھے ورنہ اعلیٰ مرتبوں والے اور اعلیٰ آمدنیوں والے لوگ ہماری جماعت میں نہیں تھے سوائے چند محمد ودلوگوں کے۔ایک تاجر سیٹھ عبد الرحمان حاجی اللہ رکھا صاحب مدراسی تھے لیکن ان کی تجارت ٹوٹ گئی تھی۔ان کے بعد شیخ رحمت اللہ صاحب ہوئے۔ان کے سوا کوئی بھی بڑا تاجر ہماری جماعت میں نہیں تھا اور نہ کوئی بڑا عہدیدار ہماری جماعت میں شامل تھا۔یہاں تک کہ حضرت خلیفہ اول ایک دفعہ مجھے فرمانے لگے دیکھو میاں! قرآن کریم اور احادیث سے پتہ لگتا ہے