خطبات محمود (جلد 27)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 141 of 706

خطبات محمود (جلد 27) — Page 141

*1946 141 خطبات محمود ا قربانی کرنے کے لئے تیار ہو جاتا ہے۔اور اس بات کا اقرار کرتا ہے کہ خواہ اسے افریقہ بھیجا جائے یا امریکہ بھیجا جائے یا جاوا، سماٹر ابھیجا جائے یا چین یا جاپان بھیجا جائے۔غرض جہاں بھی اسے بھیجا جائے وہ بغیر کسی عذر کے وہاں جائے گا۔اسے معلوم ہوتا ہے کہ کس طرح اسے حکومتیں تکلیف دیں گی اور کس طرح اسے دوسروں لوگوں کے ہاتھوں تکلیف اٹھانی پڑے گی لیکن وہ ان سب باتوں کے لئے تیار ہو جاتا ہے۔ان سب باتوں کے باوجو د اگر اس کا قدم سچ پر نہ پڑے تو کتنے افسوس کی بات ہے۔حالانکہ سچائی ایک ایسی چیز ہے جس کی امید ہم ایک عام آدمی سے بھی رکھتے ہیں اور سچائی ہی ایک ایسی چیز ہے جس کے ذریعہ تمام جھگڑے ختم ہو سکتے ہیں۔لمبے لمبے مقدمات جو مدعی اور مدعا علیہ دونوں کے مال کو گھن کی طرح کھاتے ہیں بہت جلد ختم ہو سکتے ہیں۔لیکن حالت یہ ہے کہ مدعی بھی سچ میں جھوٹ ملانے کی کوشش کرتا ہے اور مد عاعلیہ بھی سچائی کو ایک طرف رکھتے ہوئے اپنی جان بچانے کی کوشش کرتا ہے۔سیالکوٹ کا ایک واقعہ ہے کہ دو فریقوں میں ایک جھگڑا چلا آتا تھا۔ایک فریق نے دوسرے کو صلح کی دعوت دی اور ان کو اپنے ہاں بلا کر ان میں سے ایک آدمی کو قتل کر دیا۔ان قتل کرنے والوں میں سے کچھ احمدی تھے اور کچھ غیر احمدی۔ہماری ہمدردی لازماً مقتول کے وارثوں کے ساتھ تھی اور ہم نے ان کی مدد کرنے کا فیصلہ کر دیا لیکن مقتول کے وارثوں نے چند ایسے آدمیوں کے نام قاتلوں میں لکھوائے جو اس واقعہ کے دن گاؤں میں ہی نہ تھے یا جائے وقوعہ پر نہ تھے۔محض عداوت اور دشمنی کی بناء پر ان کو اس قتل میں شریک بتایا گیا۔جب ہم نے دیکھا کہ وہ عداوت کی وجہ سے کچھ ایسے آدمیوں کے نام قاتلوں کی فہرست میں شامل کر رہے ہیں جو بالکل بے گناہ ہیں اور جو اس واقعہ کے دن یہاں موجود ہی نہ تھے اور صریح غلط بیانی سے کام لے رہے ہیں تو ہماری ہمدردی ان کے ساتھ بھی نہ رہی۔کیونکہ اگر ایک انسان کو قتل کرنا ظلم ہے تو اسی طرح ایک ایسے شخص کو جس کا اس قتل میں دخل نہیں۔اس پر الزام لگانا بھی تو ویساہی ظلم ہے۔مجھے حیرت آتی ہے کہ لوگوں کو کیا ہو تا جارہا ہے جب کسی شخص سے اس کے دوست کے متعلق کوئی شہادت پوچھو تو وہ شروع کرتے ہی کہنا شروع کرے گا کہ اصل یوں ہے اور پھر ادھر اُدھر کی رطب و یابس باتیں جن کا اصل بات سے کوئی