خطبات محمود (جلد 27)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 128 of 706

خطبات محمود (جلد 27) — Page 128

خطبات محمود ضرورت ہے۔128 *1946 اگر ہماری جماعت تجارت کی طرف متوجہ ہو جائے اور تجارت کے ایک حصہ پر ہماری جماعت قابض ہو جائے تو اس کی مالی حالت بھی اچھی ہو جائے اور غیر ممالک میں تبلیغ کا کام جو اسے مشکل نظر آتا ہے وہ بھی بہت آسان ہو جائے۔میں دیکھتا ہوں کہ دوسری اقوام کے لوگ تجارت سے کمایا ہوا روپیہ اپنی عیاشیوں ، کنچنیوں کے ناچ گانے میں خرچ کر رہے ہیں۔ہزاروں بلکہ لاکھوں روپیہ ان کی جیبوں سے ان کاموں کے لئے نکل آتا ہے لیکن خد اتعالیٰ کے دین کی اشاعت کے لئے ان کی جیبیں خالی ہیں اور ان سے ایک پیسہ بھی نہیں نکل سکتا۔پس ضروری ہے کہ کچھ روپیہ تجارت سے بھی آئے جو اللہ تعالیٰ کی راہ میں خرچ ہو۔آخر کیا وجہ ہے کہ اس میدان پر صرف شیطان کا قبضہ ہو۔ہم نے تجارت اور صنعت کو فروغ دینے کے لئے قادیان میں بعض کار خانے بھی جاری کئے ہیں اور ریسرچ انسٹی ٹیوٹ بھی کھولی ہے۔تاجروں کے بعد زمینداروں کا بھی یہی حال ہے۔ان کے مال کا اکثر حصہ بھی عیاشیوں میں خرچ ہوتا ہے۔اس بات کو مد نظر رکھتے ہوئے کہ کچھ بوجھ خدا تعالیٰ کے دین کو پھیلانے کے لئے زمینداروں پر بھی پڑے میں نے تحریک جدید کے لئے یہاں زمینیں خریدی تھیں۔ان کی قیمت اس وقت تک قریباً پندرہ لاکھ روپیہ ادا کی جاچکی ہے۔اگر ہم یہی روپیہ مختلف تجارتوں پر لگاتے اور اگر ہمیں پندرہ فیصدی نفع ہوتا تو بھی ہمیں سوا دولاکھ روپیہ سالانہ آمدنی ہوتی لیکن ہمیں ابھی تک صرف ایک لاکھ کی سالانہ آمد ہو رہی ہے۔اس کمی کی ایک وجہ یہ بھی ہے کہ کارکن سستی اور غفلت سے کام کرتے ہیں اور اپنے فرائض پوری تن دہی سے سر انجام نہیں دیتے۔اس دفعہ محمد آباد میں یہ پہلا سال ہے کہ مجھے محمد آباد کے کارکنوں کے کام سے خوشی ہوئی ہے اور مجھے ان کے کام میں ترقی نظر آئی ہے۔اس سال محمد آباد کے کارکنوں نے پچیس فیصدی اپنے کام میں ترقی کی ہے لیکن جہاں ہم ان لوگوں سے سو فی صدی ترقی کی امید رکھتے ہیں۔وہاں پچیس فیصدی ترقی ہمارے دل کو تسلی نہیں دے سکتی۔ہاں اس ترقی پر اظہارِ خوشنودی بھی ضروری ہے اور اللہ تعالیٰ کا شکر بھی کہ اس نے ہمارا قدم درستی کی طرف اٹھایا۔پنجاب کی زمین سندھ کی زمین کے مقابلہ میں بے انتہا آمدنی پیدا کرتی ہے۔اس کی وجہ