خطبات محمود (جلد 27) — Page 3
*1946 3 خطبات محمود وقف کیا ہوا ہے اور ان کو ابھی تک بلایا نہیں گیا ان میں سے کچھ مولوی فاضل ہوں یا بعض انگریزی اعلیٰ تعلیم رکھتے ہوں۔مثلاً بی۔اے یا ایم۔اے ہوں۔اگر ایف۔اے یا انٹرنس پاس ہوں تو انہیں بھی کام پر لگایا جاسکتا ہے۔ایسے لوگوں کو وہاں بھیج دیا جائے اور وہاں کے مبلغین ان کو خود تیار کر لیں۔لیکن یہ کہ ہم ان کو تیار شدہ مبلغ دیں یہ ہمارے لئے فی الحال مشکل ہے۔مجھے اس بیماری میں دل کو کمزور کرنے والی دوائیاں دی گئی ہیں۔کیونکہ اس مرض کا علاج ایسی ہی دوائیوں سے ہوتا ہے اور چونکہ مجھے دن میں ہر چار چار گھنٹے کے بعد دوائی دی جاتی تھی اس لئے طبعی طور پر میرے حافظے پر ان دوائیوں کا اثر پڑا۔اور میں بعض دفعہ بات کرتا کرتا بھول جاتا کہ کیا کہنے لگا تھا۔اور بعض دفعہ دو منٹ کے بعد بات بالکل بھول جاتی تھی اور اس کی وجہ یہی ہے کہ اس بیماری میں ایسی دوائیاں پلائی جاتی تھیں جو مجھے ایک قسم کے نشے میں رکھتی تھیں۔گو دوائی تو نشہ آور نہیں تھی لیکن اس دوائی سے دل کی کمزوری، ضعف اور نقاہت اتنی ہو جاتی تھی کہ میں مدہوش سا رہتا تھا۔شاید ہمیں اللہ تعالیٰ اس بیماری سے بھی کوئی سبق دینا چاہتا ہے اگر ہم اس سے فائدہ اٹھائیں۔اب میں اس پہلی تقریب پر جماعت کو توجہ دلا تاہوں (جلسہ سالانہ پر تو اللہ تعالیٰ کے فضل سے جماعت کو خطاب کرنے کی توفیق مل گئی تھی۔اس کے بعد میں کوئی خطبہ یا تقریر نہیں کر سکا۔اس لحاظ سے یہ پہلی تقریب ہے) کہ سترہ اٹھارہ ممالک میں ہمارے مبلغین اب گئے ہیں۔اور ان میں سے ایک ملک میں ان کے پہنچتے ہی وہاں سے تار آئی ہے کہ ہمیں دس مبلغین کی فوری ضرورت ہے۔ان مبلغین کے اخراجات اور کرایہ کے ذمہ دار ہم ہوں گے۔میں تمام ایسے واقفین کو جن کو بلایا نہیں گیا گو وہ اعلیٰ تعلیم نہ رکھتے ہوں۔لیکن وہ سمجھتے ہوں کہ وہ مبلغ کا کام سنبھال لیں گے اس غرض کے لئے بلاتا ہوں اور چاہتا ہوں کہ وہ اپنے ناموں سے ہمیں اطلاع دیں۔ہم عموماً اس وقت تک اعلیٰ تعلیم کے لوگوں کو لیتے رہے ہیں یعنی عربی کے لحاظ سے مولوی فاضل اور انگریزی کے لحاظ سے بی۔اے یا ایم۔اے۔بعض ایف اے بھی تھے۔لیکن دینی لحاظ سے وہ اچھا علم رکھتے تھے۔ایسے لوگوں کو ہم لے لیتے ہیں۔کیونکہ یہ لوگ دنیوی علم تو خود پڑھ سکتے ہیں اور دینی تعلیم، قرآن کریم کا ترجمہ اور حدیثیں ہم ان کو پڑھا دیتے ہیں۔اگر کوئی ایسے نوجوان