خطبات محمود (جلد 26) — Page 81
+1945 81 خطبات محمود وہ اس بوجھ کو اٹھالے۔ہماری امیدیں تو یہی ہیں اور کل میں نے جب مبلغین بلائے کہ باہر جانے کے لئے تیاری شروع کر دیں تو میں نے ان سے یہی کہا کہ ہمارے پاس اتنے سامان بھی نہیں لیکن کام کو وسیع کرنے کے بغیر بھی چارہ نہیں۔آپ اس نیت سے باہر جائیں اور وہاں جا کر یہ کوشش کریں کہ اس ملک کے اتنے افراد احمدی ہو جائیں کہ اُن کا چندہ اُس ملک کی تبلیغ کے بوجھ کو اٹھائے تاکہ مرکز پر سے جلد اُن مشنوں کا بوجھ اُتر جائے۔اور وہ فارغ شدہ رقوم سے اور مبلغ بھجوا سکے۔پس یہ تین باتیں میں جماعت کے سامنے رکھتا ہوں۔اول یہ کہ جماعت کے دوست تحریک جدید کے چندہ میں اس رنگ میں حصہ لیں کہ ہر گروپ انیس سال تک اس بوجھ کو اٹھائے۔اور جب انیس سال کے بعد ان کی قربانی ختم ہو جائے تو پھر دوسرا گروپ آگے آئے اور وہ اس بوجھ کو اٹھائے اور اس طرح قیامت تک یہ سلسلہ چلتا چلا جائے۔اس طرح ہر فرد پر اس کا ہمیشہ بوجھ نہیں رہے گا۔کیونکہ انیس سال کے بعد نئی نسل آجائے گی اور وہ اس بوجھ کو اٹھالے گی اور اس طرح یہ تبلیغ ہمیشہ تک جاری رہے گی۔دوسرے یہ کہ ہمارے مبلغ اس محنت اور دیانتداری سے کام کریں کہ وہ جس ملک میں جائیں وہ ملک دو تین سال کے بعد وہاں کی تبلیغ کا بوجھ خود اٹھائے۔تیسرے یہ کہ جائیداد کی آمد نی ریز رو فنڈ میں جمع ہوتی رہے۔ان تینوں ذرائع کو ملا کر امید ہے کہ اگر ہم اس کے مطابق چلیں اور گناہ کی شامت ہمارے رستہ میں حائل نہ ہو تو دس بارہ سال کے بعد ہیں پچیس لاکھ روپیہ سالانہ کی آمدنی ان تینوں ذرائع سے پیدا ہو سکے۔بہر حال اصل نتیجہ تو دس بارہ دن کے بعد ہی معلوم ہو گا کہ تحریک جدید میں دوستوں نے کس حد تک حصہ لیا ہے۔اتنا ضرور ہے کہ میرے الفاظ کے ظاہری معنوں سے جو کچھ نکلتا تھا کہ کم از کم نویں سال کے برابر چندہ ہو یہ تو ہو جائے گا۔(اور جیسا کہ میں نے اوپر بتایا ہے اس وقت تک ہو چکا ہے) مگر جو سکیم ہمارے مد نظر ہے اس کے لحاظ سے وہ رقم کافی نہیں۔کیونکہ گیارھویں سال کے چندوں کا موجودہ اندازہ دولاکھ کے لگ بھگ ہے۔مگر میں نے بتایا ہے کہ ہمیں اپنی اس تبلیغی سکیم کو جاری کرنے کے لئے اڑھائی لاکھ روپیہ سالانہ کی ضرورت ہے۔مگر