خطبات محمود (جلد 26) — Page 44
$1945 44 خطبات محمود سب باتوں کو ہم مانتے ہیں۔لیکن یہ عجیب بات ہے کہ ایک شخص یہ کہتا ہے کہ میں ان تمام باتوں کو مانتا ہوں لیکن وہ ان باتوں کو پڑھتا نہیں اور اسے معلوم نہیں کہ وہ کیا باتیں ہیں جنہیں وہ مانتا ہے۔پس ہماری جماعت اگر صحیح معنوں میں تبلیغ کرنا چاہتی ہے، اگر ہماری جماعت اپنے نفس کی اصلاح کرنا چاہتی ہے اور اگر ہماری جماعت اپنی روحانیت کو درست رکھنا چاہتی ہے تو اس کے لئے ضروری ہے کہ اس کا قریب ترین مقصد یہ ہو کہ سو فیصدی احمدی قرآن مجید جانتے ہوں۔جب ہم اس مقصد میں کامیاب ہو جائیں گے تب یہ امید ہو سکے گی کہ ہم اپنی اور اپنے گردو پیش کی اصلاح کر سکیں۔جب تک ہم اس مقصد میں کامیاب نہیں ہوتے اُس وقت تک نہ ہم اپنے شیطان کو قتل کر سکتے ہیں اور نہ ہی دوسروں کے کفر کو دور کر سکتے ہیں۔اس کے لئے میں نے جماعت کو توجہ دلائی تھی کہ ہر ایک جماعت میں سے ایک ایک آدمی یہاں آئے اور یہاں سے قرآن مجید پڑھ کر واپس جائے اور جا کر دوسروں کو پڑھائے۔مجھے افسوس ہے کہ اس طرف توجہ پیدا نہیں ہوئی۔میں نے کہا ہوا ہے کہ ہر ناظر کا کام ہے کہ جب میں خطبہ میں کسی کام کی طرف توجہ دلاؤں تو جس صیغہ کے ساتھ اُس کام کا تعلق ہو اُس صیغہ کا ناظر اس کے مطابق کام شروع کر دے۔لیکن محکمہ تعلیم نے شستی کی ہے اور اس کام کو شروع کرنے کا کوئی انتظام نہیں کیا۔پس نظارت تعلیم کو چاہیے کہ اس کام کے لئے وہ ایک مہینہ مقرر کرے۔اور پھر جماعتوں میں اخبار کے ذریعہ اور مبلغوں اور انسپکٹروں کے ذریعہ تحریک کریں کہ اس مہینہ میں ہر ایک جماعت اپنا ایک ایک آدمی قرآن مجید پڑھنے کے لئے یہاں بھیجے۔جو یہاں سے سارا قرآن مجید یا آدھا یا دس پارے پڑھ کر واپس چلے جائیں اور اپنے اپنے ہاں واپس جا کر دوسروں کو پڑھائیں اور ہر سال یہ سلسلہ جاری رہے۔پھر مبلغوں اور بیت المال کے انسپکٹروں کا یہ کام ہو کہ جس جس جماعت میں وہ جائیں وہاں جا کر دیکھیں کہ جو آدمی یہاں سے پڑھ کر گئے تھے انہوں نے آگے کتنے آدمیوں کو قرآن مجید پڑھایا ہے۔اگر اس سکیم پر عمل کیا جائے تو میں سمجھتا ہوں کہ چند سالوں کے اندر اندر ہماری جماعت کے لوگ قرآن مجید جاننے لگ جائیں گے اور جب وہ قرآن مجید جاننے لگ جائیں گے تو پھر ان کی تبلیغ بھی موئثر ہو سکے گی اور