خطبات محمود (جلد 26) — Page 487
$1945 487 خطبات محمود سے ایک حد تک قربانی کی روح ترقی کر رہی ہے۔مگر دیکھنا یہ ہے کہ جماعت کی تعداد میں جو ترقی ہو رہی ہے وہی اس کا اصل باعث تو نہیں۔اگر تعداد کے بڑھنے کی وجہ سے قربانی میں ترقی معلوم ہوتی ہے تو پھر یقینا ہم نے کوئی کام نہیں کیا۔قربانی میں ترقی کرنے کا مطلب تو یہ ہوتا ہے کہ ہماری ذاتی قربانی بڑھ جائے۔اگر ہم خود کوئی قربانی نہ کریں اور تعداد کے بڑھنے کی وجہ سے کچھ ترقی ہو جائے تو اس ترقی کا ہمارے وجود سے کوئی تعلق نہیں ہو گا۔فرض کرو پہلے پانچ احمدی تھے اور وہ ڈیڑھ روپے کے حساب سے ساڑھے سات روپیہ چندہ دیتے تھے۔پھر خدا تعالیٰ نے پانچ نئے احمدی بنا دیے اور وہ دس روپے مزید چندہ دینے لگ گئے۔تو یہ لازمی بات ہے کہ اگر پہلے پانچوں کا چندہ ساڑھے سات روپے تھے تو اب ساڑھے سترہ روپے ہو جائے گالیکن اس کے یہ معنی نہیں ہوں گے کہ پہلے پانچ آدمیوں نے قربانیوں میں ترقی کی اور وہ ساڑھے سات روپے سے ساڑھے سترہ پر آگئے۔بلکہ یہ زیادتی اُن نئے آنے والوں کی وجہ سے ہو گی۔پس وہ نئے احمدی جو اس دوران میں اللہ تعالیٰ نے بنائے ہیں اگر ان کی وجہ سے ہمیں مالی ترقی ہوئی ہے تو یہ جماعت کی قربانی کا ثبوت نہیں ہو گا۔یہ اللہ تعالیٰ کا کام تھا کہ اُس نے ان کو ہدایت دے دی۔لیکن سوال تو یہ ہے کہ ہمارے ایمانوں میں کونسا تغیر پیدا ہوا اور ہم نے کس قربانی کا ثبوت دیا؟ حقیقت یہ ہے کہ وہ لوگ جو قربانیوں میں سستی سے کام لے رہے ہیں خدا تعالیٰ کے قرب سے دور ہوتے جارہے ہیں۔اور اُس سطح کے قریب آرہے ہیں جو انسان کو اللہ تعالیٰ کے غضب کا مورد بنا دیتی ہے۔پس یہ بات سوچنے کے قابل ہے کہ آیا نئے آنے والوں کیوجہ سے ہماری قربانیوں میں ترقی ہوتی ہے یا در حقیقت ہماری جماعت کے لوگ قربانیوں میں ترقی کر رہے ہیں۔اس وقت تحریک جدید کے ماتحت بہت سے کام شروع کئے جاچکے ہیں مگر ان کاموں کو صحیح طور پر چلانے کے لئے مزید قربانیوں کی ضرورت ہے۔جس رنگ میں وہ کام ہونے چاہئیں ابھی تک اُس رنگ میں نہیں ہو رہے جس کی بڑی وجہ جماعت کی قربانی کی کمی ہے۔اگر ان کاموں کو صحیح طور پر چلایا جائے تو جماعت بہت بڑی ترقی کر سکتی ہے اور اپنے منزلِ مقصود کو زیادہ سرعت کے ساتھ حاصل کر سکتی ہے۔مگر ابھی منزلِ مقصود کے قریب پہنچنا تو در کنار