خطبات محمود (جلد 26)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 471 of 516

خطبات محمود (جلد 26) — Page 471

+1945 471 خطبات محمود ان کے ذریعہ دوسرے لوگوں کی بھی بہت بڑی اصلاح ہوئی اور وہ دین کے چراغوں میں سے ایک چراغ بن گئے۔اس قسم کے مقابلے دنیا میں ہمیشہ ہوتے رہتے ہیں۔گفر اور اسلام کی جنگ نہ پہلے ختم ہوئی اور نہ آئندہ زمانہ میں ختم ہو گی۔اگر ہم پیدائش عالم سے لے کر اب تک دنیا کا نقشہ اپنی آنکھوں کے سامنے لائیں تو یوں معلوم ہوتا ہے کہ دنیا ایک اکھاڑہ ہے جس میں اسلام اور کفر کے پہلوانوں کی آپس میں کشتیاں ہو رہی ہیں۔اور اللہ تعالیٰ دیکھ رہا ہے کہ اس کشتی میں کون جیتا اور کون ہارتا ہے۔بعض دفعہ اللہ تعالیٰ کے کچھ بندے ایسے پیدا ہوتے ہیں جو نور کو دنیا میں پھیلانے کی کوشش کرتے ہیں اور اللہ تعالیٰ اپنے فضل اور رحم سے انہیں شیطان پر غلبہ عطا کر دیتا ہے اور کبھی اللہ تعالیٰ کے بندے اس سے ایسے غافل اور ظلمت سے مانوس ہو جاتے ہیں کہ شیطان کا پلہ بھاری ہو جاتا ہے اور وہ خدائی پہلوانوں کو پچھاڑ دیتا ہے۔یہ کشتی ابتدائے عالم سے شروع ہوئی اور انتہائے عالم تک ہوتی چلی جائے گی۔آدم کے زمانہ سے لے کر آج تک ہمیشہ کچھ بندے ایسے گزرے ہیں جو اس دنیا کی زندگی کو اپنی اخروی زندگی کی کھیتی تیار کرنے کا ایک ذریعہ سمجھتے رہے اور آئندہ آنے والی زندگی کے لئے تمام تکلیفوں کو خوشی سے برداشت کرتے رہے۔لیکن بعض بندے ایسے ہوتے ہیں جو اِس دنیا کی خاطر اپنی اخروی زندگی کو قربان کر دیتے ہیں۔ایسے لوگ جب مریں گے اور مرنا ہر ایک نے ہی ہے۔کوئی شخص یہ نہیں کہہ سکتا کہ اُس نے نہیں مرنا۔تو وہ اس دنیا سے خالی ہاتھ جائیں گے اور خالی ہاتھ اپنے رب سے ملیں گے۔لیکن وہ لوگ جو اس دنیا کو اُخروی زندگی کے لئے ایک مزرعہ سمجھتے ہیں اور اُخروی حیات کے لئے ہر قسم کی تکالیف خندہ پیشانی سے برداشت کرتے ہیں وہ اپنی آئندہ زندگی کے لئے بہت سے سامان اپنے ساتھ لے کر جائیں گے۔اگر ہم دنیا کے حالات پر غور کریں تو ہمیں معلوم ہوتا ہے کہ اس عالم میں کچھ لوگ تو ایسے ہوتے ہیں جن کو اللہ تعالیٰ کی حکمتوں کے ماتحت اس دنیا میں بھی آرام ملتا ہے اور اگلے جہان میں بھی آرام ملے گا۔اور کچھ لوگ ایسے ہوتے ہیں جن کو اس زندگی میں تو آرام نہیں ملتا لیکن آئندہ زندگی میں اللہ تعالیٰ ان کے لئے ہر قسم کے آرام کے سامان پیدا کرے گا۔اور کچھ لوگ ایسے ہوتے ہیں جن کے لئے اِس جہان میں تو آرام کے سامان ہیں لیکن اگلے جہان میں