خطبات محمود (جلد 26) — Page 472
+1945 472 خطبات محمود ان کے لئے آرام کا کوئی سامان نہیں ہو گا۔اگر یہ درست ہے اور تمام مذاہب میں یہی بات درست سمجھی جاتی ہے اور تمام تجربہ کار لوگوں کا یہی قول ہے کہ اس دنیا کی زندگی اخروی زندگی کے مقابلہ میں بالکل حقیر چیز ہے، یہ اُس کے مقابلہ میں اتنی بھی حیثیت نہیں رکھتی جتنی سمندر کے مقابلہ میں ایک قطرہ حیثیت رکھتا ہے تو جس نے قطرہ کی حفاظت کی اور سمندر کو چھوڑ دیا اور جس شخص نے قطرے کو چھوڑ دیا اور سمندر کو رکھ لیاوہ دونوں آپس میں برابر نہیں ہو سکتے۔قطرہ آج نہیں تو کل ختم ہو جائے گا مگر سمند ر کبھی ختم نہیں ہو سکتا۔وہ لوگ جو اس دنیا سے بالکل فائدہ نہیں اٹھاتے یا اِس دنیا سے کم فائدہ اٹھاتے ہیں وہ انبیاء کے زمانے کے لوگ ہوتے ہیں۔ان میں اکثر حصہ ایسا ہوتا ہے جو راحت و آرام کے سلمانوں سے گلی تہی دست ہو تا ہے یہاں تک کہ اُن کے حالات پڑھ کر ہر وہ شخص جس کے سینہ میں روشن دل موجود ہو اپنی رفت کو روک نہیں سکتا۔حضرت عثمان بن مظعون جو رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے انتہائی شیدائیوں میں سے تھے وہ مکہ کے رئیس گھرانہ میں سے تھے۔مگر اسلام قبول کرنے کے بعد انہوں نے طرح طرح کی تکالیف برداشت کیں اور ان کی حالت یہاں تک پہنچ گئی کہ وہ مکہ سے ہجرت کے ارادہ کے ساتھ حبشہ کی طرف چل پڑے۔راستہ میں انہیں اپنے باپ کا ایک گہرا دوست مل گیا۔اُس نے پوچھا عثمان کہاں جا رہے ہو ؟ انہوں نے جواب دیا کہ مکہ والوں نے مکہ میں میرا رہنا دشوار بنادیا ہے اس لئے میں عرب سے باہر اپنے لئے کوئی جگہ تلاش کرنے چلا ہوں۔اس رئیس کی آنکھوں میں آنسو آگئے۔اس نے کہا عثمان ! تمہارا باپ میرا دوست تھا اور ہم ایک دوسرے پر جان فدا کیا کرتے تھے۔اب میری زندگی میں تمہارا مکہ سے جانا بڑی ذلت کی بات ہے تم بغیر کسی قسم کے خطرہ کے میرے ساتھ واپس چلو تم کو کوئی شخص تکلیف پہنچانے کی جرات نہیں کر سکتا۔چنانچہ وہ زور دے کر حضرت عثمان کو واپس لے آیا اور اُس نے خانہ کعبہ میں اس بات کا اعلان کر دیا کہ عثمان میری حفاظت میں ہے۔اگر کوئی شخص انہیں کچھ کہے گا تو وہ میرے نزدیک ایسا ہی ہو گا جیسا اُس نے مجھے تکلیف دی۔اس اعلان کی وجہ سے حضرت عثمان کے لئے تکالیف اور مشکلات کم ہو گئیں اور وہ آزادانہ طور پر مکہ کے گلی کوچوں میں