خطبات محمود (جلد 26)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 347 of 516

خطبات محمود (جلد 26) — Page 347

$1945 347 خطبات محمود سال لگ جاتے ہیں اور بعض دفعہ اس سے بھی زیادہ عرصہ لگ جاتا ہے۔مگر بہر حال جیسے ماں کو درد زہ ہوتی ہے تو گھر میں افرا تفری پڑ جاتی ہے وہی حالت اس وقت ہماری جماعت کی ہے۔ہمارے لئے اللہ تعالیٰ کے قانونِ قدرت نے درد زہ پیدا کی ہے اور آئندہ بیس سال کی کوششوں کے نتیجہ میں احمدیت کا زندہ یا مردہ بچہ پیدا ہونے والا ہے۔ایسے وقت میں دوسرے کسی خیال کو مد نظر نہیں رکھا جا سکتا بلکہ ایک ہی خیال کو مد نظر رکھا جا سکتا ہے۔اور وہ یہ کہ آنے والا واقعہ خیر و عافیت سے گزر جائے۔پس اس وقت ہماری جماعت کے لئے نہایت ہی نازک موقع ہے اور ہر قسم کی شستی اور غفلت کو دور کرنے کا وقت ہے۔وہ لوگ جو سستی اور غفلت سے کام لیں گے اُن کا اِس بچہ کی پیدائش میں کوئی حصہ نہیں ہو گا۔اور جو خوشی بچے کی پیدائش کے نتیجہ میں انسان دیکھتا ہے اس خوشی میں وہ حصہ دار نہیں ہوں گے۔دنیا میں افراد کے بچے افراد کی طرف منسوب ہوتے ہیں مگر قوم کا بچہ قوم کی طرف منسوب ہوتا ہے۔اگر احمدیت نے شان و شوکت والی زندگی حاصل کر لی تو ہر احمدی کو اس نئی پیدائش کی وجہ سے ایک نئی زندگی حاصل ہو گی۔مگر ساتھ ہی ہر قربانی کرنے والا احمد کی اس بچہ ( یعنی احمدیت) کی پیدائش کا موجب اور اس کا باپ سمجھا جائے گا۔یہ خدا تعالیٰ کی عجیب قدرت ہے کہ افراد اور جماعت میں جو نسبت ہے وہ دوسری چیزوں میں نہیں ملتی۔اگر ہم غور کریں تو ہر فردِ جماعت کا باپ ہو تا ہے اور جماعت افراد کی باپ ہوتی ہے۔اور یہ دنوں باتیں صحیح ہیں۔یہ بھی صحیح ہے کہ بغیر افراد کے جماعت نہیں اور یہ بھی صحیح ہے کہ بغیر جماعت کے افراد نہیں۔یہ بھی ہے کہ جماعت افراد سے بنتی ہے اور یہ بھی صحیح ہے کہ افراد جماعت سے بنتے ہیں۔یہ ایک عجیب قسم کا دور تسلسل ہے جسے منطقی لوگ ناجائز قرار دیتے ہیں۔مگر خدا تعالیٰ کے قانونِ قدرت میں ہمیں یہ صحیح طور پر نظر آتا ہے۔جس طرح دنیا آج تک یہ حل نہیں کر سکی کہ مرغی پہلے تھی یا انڈا۔اسی طرح یہ بھی پتہ نہیں لگا سکتی کہ افراد سے جماعت بنتی ہے یا جماعت سے افراد بنتے ہیں۔حقیقت یہ ہے کہ اگر افراد ناقص ہوں تو یہ نہیں ہو سکتا کہ کامل طور پر جماعت بن جائے اور یہ بھی نہیں ہو سکتا کہ جماعت ناقص ہو اور افراد اعلیٰ قسم کے بن جائیں۔جب تک