خطبات محمود (جلد 26) — Page 336
+1945 336 خطبات محمود ہونے سے انکار نہیں کر سکتی۔اسی طرح جب دنیا میں کسی قوم کی پیدائش ہوتی ہے تو لوگ اُس کے وجود کا اقرار کر لیتے ہیں اور تسلیم کرتے ہیں کہ یہ قوم بھی دنیا کی اقوام میں گنے جانے کے قابل ہے۔گو اس کی اہمیت کو لوگ نہ سمجھتے ہوں یا اس کے متعلق وہ یہ نہ سمجھتے ہوں کہ وہ دنیا میں عظیم الشان تغییر کا موجب ہو سکتی ہے مگر ابھی دنیا کی اقوام میں ہماری قومی شخصیت اور فردیت تسلیم نہیں کی گئی۔اور جوانی تو ابھی دُور ہے۔میں نے اللہ تعالیٰ کے فضل سے پچھلے دس سال میں جو باتیں اپنی جماعت کی ترقی اور دنیا کے تغیرات کے متعلق بتائی تھیں اُن کا نتیجہ دنیا کے سامنے آگیا ہے۔اور دنیا نے دیکھ لیا ہے کہ وہ کس طرح لفظ بلفظ پوری ہوئی ہیں۔اور ان کی تفاصیل اسی طرح وقوع میں آئی ہیں جس طرح میں نے بیان کی تھیں۔اب میرے دل میں یہ بات شیخ کی طرح گڑ گئی ہے کہ آئندہ اندازاً بیس سالوں میں ہماری جماعت کی پیدائش ہو گی۔بچوں کی تکمیل تو چند ماہ میں ہو جاتی ہے اور نو ماہ کے عرصہ میں وہ پیدا ہو جاتے ہیں۔لیکن بچے کی پیدائش اور قوم کی پیدائش میں بہت بڑا فرق ہوتا ہے۔ایک فرد کی پیدائش بے شک نو ماہ میں ہو جاتی ہے لیکن قوموں کی پیدائش کے لئے ایک لمبے عرصہ کی ضرورت ہوتی ہے اور میں سمجھتا ہوں آئندہ بیس سال کا عرصہ ہماری جماعت کے لئے نازک ترین زمانہ ہے۔جیسے بچہ کی پیدائش کا وقت نازک ترین وقت ہوتا ہے۔کیونکہ بسا اوقات وقت کے پورا ہونے کے باوجود پیدائش کے وقت کسی وجہ سے بچہ کا سانس رُک جاتا اور وہ مردہ وجود کے طور پر دنیا میں آتا ہے۔پس جہاں تک ہماری قومی پیدائش کا تعلق ہے میں اس بات کو میخ کے طور گڑا ہوا اپنے دل میں پاتا ہوں کہ یہ نہیں سال کا عرصہ ہماری جماعت کے لئے نازک ترین مرحلہ ہے۔اب یہ ہماری قربانی اور ایثار ہی ہوں گے جن کے نتیجہ میں ہم قومی طور پر زندہ پیدا ہوں گے یا مر دہ۔اگر ہم نے قربانی کرنے سے دریغ نہ کیا اور ایثار سے کام لیا اور تقویٰ کی راہوں پر قدم مارا، محنت اور کوشش کو اپنا شعار بنایا تو خدا تعالیٰ ہمیں زندہ قوم کی صورت میں پیدا ہونے کی توفیق دے گا اور اگلے مراحل ہمارے لئے آسان کر دے گا۔بچے کی پیدائش کا مرحلہ ہی سب۔مشکل۔مرحلہ ہوتا ہے۔پھر اس کا بڑا ہونا پھولنا پھلنا یہ سب ایک ہی دائرہ اور ایک ہی چکر کی چیزیں ہیں۔اور وہ