خطبات محمود (جلد 26)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 317 of 516

خطبات محمود (جلد 26) — Page 317

$1945 317 خطبات محمود کو مُجرم کی سزا دے سکتا ہے جو اس کے اپنے ملک میں رہتے ہوں یا وہ جرم جو جنگ کے علاوہ ہوں۔یعنی ان کا جنگ کے ساتھ کوئی تعلق نہ ہو۔جیسے کوئی قوم جنگ میں آدمیوں کو پکڑ کر ان کے ناک کان کاٹے۔اب یہ فعل ایسا ہے جو جنگ کے ساتھ تعلق نہیں رکھتا۔تو ایسے جرائم کی سزا دینا جائز تسلیم کیا گیا ہے۔لیکن اس سے زیادہ اس قانون کو وسیع کرنا گویا آئندہ کے لئے خطرات کو بڑھا دینے والی بات ہے۔اور ان باتوں کے نتیجہ میں مجھے نظر آرہا ہے کہ آئندہ زمانہ میں جنگیں کم نہیں ہوں گی بلکہ بڑھیں گی۔اور وہ لوگ جو یہ خیال کرتے ہیں کہ اٹامک سے بڑی طاقتوں کے ہاتھ مضبوط ہو جائیں گے اور ان کے مقابلہ میں کوئی جنگی طاقت حاصل نہیں کر سکے گا یہ لغو اور بچوں کا سا خیال ہے۔یہ خیال صرف اٹامک بم کے ایجاد ہونے پر ہی لوگوں کے دلوں میں پیدا نہیں ہوا۔بلکہ جب بندوق ایجاد ہوئی تھی تو لوگ سمجھتے تھے کہ بندوق والے ہی دنیا میں غالب ہوں گے۔اور جب توپ ایجاد ہوئی تو لوگ سمجھتے تھے کہ توپ والے ہی دنیا میں غالب ہوں گے۔جب ہوائی جہاز ایجاد ہوئے تھے تو لوگوں نے گمان کیا تھا کہ ہوائی جہاز والے ہی دنیا میں غالب ہوں گے۔جب گیس ایجاد ہوئی تھی تو لوگوں نے خیال کیا تھا کہ گیس والے ہی دنیا میں غالب ہوں گے۔لیکن پھر وی۔ون 1(V۔One) اور وی۔ٹو 2 ( V۔Two) نکل آئے۔تو لوگ سمجھے کہ وی ون اور وی ٹو والے ہی دنیا میں غالب ہوں گے۔اس کے بعد اب اٹامک بم نکل آئے ہیں۔یاد رکھو! خدا کی بادشاہت غیر محدود ہے اور خدا کے لشکروں کو سوائے خدا کے کوئی نہیں جانتا اللہ تعالیٰ قرآن مجید میں فرماتا ہے کہ مَا يَعْلَمُ جُنُودَ ربَّكَ إِلا هُوَ 3 یعنی تیرے رب کے لشکروں کو سوائے اس کے کوئی نہیں جانتا۔اگر بعض کو اٹامک بم مل گیا ہے تو اللہ تعالیٰ کے اختیار میں ہے کہ وہ کسی سائنس دان کو کسی اور نکتہ کی طرف توجہ دلا دے اور وہ ایسی چیز تیار کرلے جس کے تیار کرنے کے لئے بڑی بڑی لیبارٹری کی بھی ضرورت نہ ہو۔بلکہ ایک شخص گھر میں بیٹھے بیٹھے اُس کو تیار کرلے اور اس کے ساتھ دنیا پر تباہی لے آئے اور اس طرح وہ اٹامک بم کا بدلہ لینے لگ جائے۔پس جس چیز کی ضرورت ہے وہ یہ ہے کہ ان مہلک چیزوں کو کم کیا جائے نہ کہ انہیں بڑھایا جائے۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے کتنا لطیف نکتہ بیان فرمایا ہے کہ آگ کا