خطبات محمود (جلد 26)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 318 of 516

خطبات محمود (جلد 26) — Page 318

+1945 318 خطبات حمود عذاب دینا اللہ تعالیٰ کا کام ہے۔مسلمانوں کو نہیں چاہئے کہ وہ اپنے دشمن کو آگ۔تعذیب و تکلیف دیں۔4 رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم جانتے تھے کہ آگ جنگ کو روکنے کا موجب نہیں ہو گی بلکہ بڑھانے کا موجب ہو گی۔اس میں شبہ نہیں کہ اگر جنگ میں دشمن نئی نئی ایجادوں کو اسلامی حکومت کے خلاف استعمال کرے تو اسلامی حکومت کو بھی اجازت ہے کہ اس کا اُسی رنگ میں جواب دے لیکن غلو سے کام نہ لے۔یعنی مسلمانوں کو آگ کی ایسی ایجادوں کی طرف رغبت رکھنی منع ہے جن سے کسی کو عذاب دینا مقصود ہو۔دنیا میں جتنے تغیرات ہوتے ہیں وہ سب کے سب خیالات کے ماتحت پیدا ہوتے ہیں۔ان تغیرات کے پیچھے ایک جذبہ اور ایک محرک ہوتا ہے جس کے ماتحت لوگ سکیمیں بناتے ہیں۔اگر کسی قوم کے دماغ کے پیچھے جذبہ اور محرک یہ ہو کہ ہم نے آگ کو بطور عذاب استعمال نہیں کرنا تو یقیناً وہ ایسی ایجادیں نہیں کرے گی جن میں آگ کا استعمال ہو۔لیکن اگر کسی قوم کے دماغ کے پیچھے جذبہ اور محرک یہ ہو کہ آگ کا عذاب دینے میں کوئی حرج نہیں بلکہ جتنا کسی کو نقصان پہنچایا جا سکے اُتنا ہی اچھا ہے تو وہ ضرور اس کی طرف راغب ہو گی۔تیرہ سو سال پہلے دنیا کو رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے لڑائیوں کے کم کرنے کا ایک راستہ بتایا تھا جب تک دنیا اس راستہ پر نہیں چلے گی لڑائیاں کم نہیں ہوں گی بلکہ بڑھیں گی۔امریکہ اور یورپ والے امن نہیں پائیں گے جب تک رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی اس تعلیم کی طرف متوجہ نہیں ہوں گے۔وہ جب تک رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ارشاد کے مطابق یہ نہ کہیں گے کہ ہمیں ان آگ کی چیزوں کو نا جائز قرار دینا چاہیے اُس وقت تک حقیقی امن ان کو نصیب نہیں ہو گا۔وہ ان چیزوں کو ناجائز قرار دیں اور پھر اُتنی ہی سختی کریں جتنی دشمن نے کی تو پھر دنیا میں یقیناً امن قائم ہو جائے گا۔کیونکہ دشمن محسوس کرے گا کہ اگر چہ ان کے پاس زیادہ سخت سزا دینے کی طاقت تھی لیکن اخلاقی تعلیم کے ماتحت انہوں نے ہم سے نرمی کی ہے اور جو سلوک ہمارے ساتھ کیا گیا ہے وہ محض جوش، غصہ اور بدلہ کے جذبہ کے ماتحت نہیں۔لیکن اگر ہم بوجہ اس کے کہ ہمارے پاس تباہی کے سامان زیادہ ہیں ایسے سخت ہتھیار استعمال کریں کہ دشمن کے بچے اور عور تیں تباہ کر دیں تو پھر دنیا اسی کو اخلاق سمجھے گی کہ جتنی طاقت میسر آئے