خطبات محمود (جلد 26) — Page 258
خطبات محمود 258 +1945 مثنوی رومی والے لکھتے ہیں۔ایک سپیرا تھا جسے ایک دفعہ نئی قسم کا سانپ مل گیا۔اُس نے سمجھا کہ مجھے ایک عجیب چیز مل گئی ہے میں اس کا تماشہ دکھا دکھا کر لوگوں سے بہت روپے کمالوں گا۔رات کو اُس نے وہ سانپ ایک گھڑے میں بند کیا اور خود کسی کام میں مشغول ہو گیا۔چونکہ وہ نئی قسم کا سانپ تھا اس لئے تھوڑی دیر کے بعد اسے پھر شوق پیدا ہوا کہ میں اِس کو دیکھوں۔جب اُس نے ڈھکنا اٹھایا تو سانپ اندر سے غائب تھا۔معلوم ہوتا ہے کسی نے غلطی سے ڈھکنا کھول دیا۔اور سانپ اندر سے نکل گیا۔وہ سمجھتا رہا کہ میر اسانپ محفوظ ہے مگر جب اُس نے بر تن کو کھولا تو اُس میں سانپ نہیں تھا۔یہ دیکھ کر اسے شدید صدمہ ہوا کہ مجھے ایک ہی چیز ملی تھی جس سے میں اپنے لئے بڑی آمدنی پیدا کر سکتا اور اپنے سپیرے بھائیوں پر فخر کر سکتا تھا مگر افسوس کہ وہ چیز گم ہو گئی۔اِس کا اُسے ایسا صدمہ ہوا کہ وہ ساری رات دعائیں کرتا رہا کہ یا اللہ ! یہ کیا ہو گیا ہے؟ مجھے ایسا عجیب سانپ ملا تھا اور وہ کہیں غائب ہو گیا ہے الہی ! میر اسانپ مجھے مل جائے۔الہی! میر اسانپ مجھے مل جائے۔کچھ دیر دعا کرنے کے بعد وہ اٹھتا اور ادھر اُدھر دیکھتا کہ مکان کے کسی گوشہ میں تو وہ نہیں بیٹھا۔مگر جب سانپ دکھائی نہ دیتا تو پھر دعائیں شروع کر دیتا یہاں تک کہ ساری رات وہ دعاؤں میں مشغول رہا۔آخر اُس کے دل میں مایوسی پیدا ہوئی کہ میں نے ساری رات دعا بھی کی اور سانپ بھی مجھے نہ ملا۔جب صبح ہوئی تو ایک شخص آیا اور اس نے دروازہ پر دستک دے کر کہا کہ فلاں گھر میں تمہیں بلاتے ہیں وہاں ایک موت واقع ہو گئی ہے۔وہ اس کا ایک رشتہ دار پیر اتھا۔جب یہ وہاں گیا تو اس نے دیکھا کہ وہی سانپ جس کے لئے وہ ساری رات دعائیں کرتا رہا تھا انہوں نے مار کر رکھا ہوا ہے اور پاس ہی ایک لاش پڑی ہے۔لوگوں نے اسے بتایا کہ یہ سانپ رات کو اتفاقاً یہاں سے گزر رہا تھا کہ اس شخص نے پکڑ لیا سانپ نے اسے کاٹا اور یہ مر گیا کیونکہ یہ نئی قسم کا سانپ تھا جس کے زہر کا علاج ہمیں معلوم نہیں۔وہ یہ دیکھتے ہی سجدہ میں گر گیا اور اس نے خدا تعالیٰ سے کہا یا اللہ ! میں نے یونہی بدظنی کی تھی کہ میری دعا قبول نہیں ہوئی۔اگر میری دعا قبول ہو جاتی اور یہ سانپ مجھے مل جاتا تو اس شخص کی بجائے آج میری لاش پڑی ہوتی۔تو بعض دفعہ انسان ایک چیز کو اچھا اور خوشنما سمجھتا اور اسے لینے کی خواہش کرتا ہے مگر وہ ہوتی بری ہے۔اللہ ہی جانتا ہے