خطبات محمود (جلد 26) — Page 259
خطبات محمود 259 $1945 کہ کونسی چیز انسان کے لئے اچھی ہے اور کون سی بُری۔وہ خدا جس نے آج سے اڑھائی ہزار سال پہلے حز قیل نبی کے ذریعہ اس فتنہ کی خبر دی تھی اُس خدا کا یہ فعل ظاہر کر رہا ہے کہ اس فتنہ کو معمولی سمجھنا یا اس کے خطرناک نتائج سے اپنی آنکھیں بند کر لینا نادانی اور حماقت ہے۔آجکل کے لوگوں کے متعلق تو یہ کہا جا سکتا ہے کہ انہیں کمیونزم سے حسد ہے، بغض اور کینہ ہے جو ان کے دلوں میں پایا جاتا ہے۔یاوہ پرانی لکیر کے فقیر ہیں یا ایسے جاہل ہیں کہ اقتصادیات کے فلسفہ کو نہیں سمجھ سکتے۔مگر سوال یہ ہے کہ آج سے پچیس سو سال پہلے حز قیل نبی کو کس نے اس فریب اور دعا میں شامل کر لیا تھا؟ آخر یہ کیا بات ہے کہ حز قیل نبی نے آج سے پچیس سو سال پہلے یہ خبر دی جو آج تک بائبل میں لکھی ہوئی موجود ہے۔کیا کوئی کہہ سکتا ہے کہ حزقیل نبی کو آجکل کے زمانہ کے لوگوں نے اس فریب میں شامل کر لیا تھا؟ کیا اینٹی کمیونزم پالیسی کو اختیار کرتے وقت ہٹلر نے حز قیل سے منصوبہ کیا تھا؟ یا کیا مسولینی نے کمیونزم کے خلاف اپنی جدوجہد جاری رکھنے کے لئے حز قیل سے منصوبہ کر لیا تھا؟ یا کیا انگلستان کی کسی اینٹی کمیونزم پارٹی نے حز قیل سے منصوبہ کر لیا تھا؟ یا امریکہ کے رہنے والوں میں سے کسی شخص میں یہ طاقت تھی کہ وہ آج سے پچیس سو سال پہلے کے کسی نبی سے اپنی تائید میں کوئی خبر لکھوا سکتا؟ اور اگر کسی آدمی میں یہ طاقت ہو سکتی ہے کہ وہ پچیس سو سال پہلے اپنے متعلق کوئی خبر لکھوا دے تو وہ آجکل کے لوگوں سے کیا ڈر سکتا ہے؟ جو شخص ایسا کر سکتا ہے اس کے متعلق یہ سمجھ لینا چاہیے کہ وہ دنیا کی بڑی سے بڑی طاقت کو بھی ملیامیٹ کر سکتا ہے۔پس یہ وہ فتنہ ہے جس کا حز قیل نبی کی پیشگوئی میں ذکر آتا ہے۔اور رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم فرماتے ہیں کہ مسیح موعود کے زمانہ میں جو بہت بڑے فتن پیدا ہونے والے ہیں ان کی سب نبیوں نے خبر دی ہے۔گویا آپ نے بھی اس رنگ میں حز قیل نبی کی پیشگوئی کی تائید کر دی۔یہ امر بتاتا ہے کہ جہاں تک عملی سیاست کا تعلق ہے گو ہمارا کسی حکومت سے کوئی لگاؤ نہیں۔مگر جہاں تک اس فلسفہ سیاست کا تعلق ہے خدا اس نظام کا دشمن ہے۔اور آج سے ہزاروں سال پہلے خدا نے اپنے انبیاء کے ذریعہ اس فتنہ کی اسی لئے خبر دی