خطبات محمود (جلد 26)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 248 of 516

خطبات محمود (جلد 26) — Page 248

+1945 248 خطبات محمود بہت بڑے ابتلا کا بھی موجب ہوتے ہیں۔اگر انسان ان نشانات کی قدر کرے تو اس کا ایمان زمین سے آسمان پر پہنچ جاتا ہے۔اور اگر وہ ان نشانات کی قدر نہ کرے اور ان سے فائدہ نہ اٹھائے تو اُس کا ایمان آسمان سے زمین پر آگر تا ہے۔پس میں جماعت کو توجہ دلا تا ہوں کہ وہ اللہ تعالیٰ کے ان نشانات سے فائدہ اٹھائے، اپنے ایمانوں کو مضبوط بنائے اور پہلے سے زیادہ قربانیاں کرنے کی کوشش کرے۔کیونکہ اب اس کی ذمہ داریاں پہلے سے بہت بڑھ گئی ہیں اور خدا نے اس پر محبت تمام کر دی ہے۔اگر اب بھی کوئی شخص توجہ نہیں کرے گا تو وہ گھڑ گھڑایا اور بنا بنایا مجرم خدا تعالیٰ کے سامنے پیش ہو گا۔وہ لوگ جنہوں نے خدا تعالیٰ کے نشانات نہیں دیکھے وہ کہہ سکتے ہیں کہ ہم کیا کریں ہم نے تو اپنی آنکھ سے خدا تعالیٰ کا کوئی نشان نہیں دیکھا۔وہ لوگ جن پر ایک لمبا عرصہ گزر چکا ہے اور گو کسی پہلے زمانہ میں انہوں نے خدا تعالیٰ کے نشانات کو دیکھا ہو مگر اب ایک لمبے زمانہ سے انہوں نے کسی نشان کو نہیں دیکھا وہ بھی کہہ سکتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ کے نشانات پر ایک عرصہ دراز گزر چکا ہے۔اب ہمارے دلوں پر زنگ لگ گیا ہے اور ہم میں قربانی کرنے کی روح نہیں رہی۔لیکن وہ جماعت جس کے سامنے خدا تعالیٰ نے اپنے تازہ بتازہ نشانات دکھائے ہیں اور اب بھی دکھا رہا ہے وہ خدا تعالیٰ کو کیا جواب دے سکتی ہے۔اس کے ایمان میں تو اتنی تیزی اور شدت ہونی چاہیے کہ کوئی بات اس کو سست کرنے والی نہ ہو۔ہر قدم اس کا آگے بڑھے اور اس طرح دیوانہ وار وہ خدا تعالیٰ کے دین کی خدمت کے لئے کھڑی ہو جائے کہ اسے اپنی زندگی اور اپنی موت دونوں یکساں معلوم ہوں بلکہ موت اسے زندگی سے زیادہ شیریں اور لذیذ معلوم ہو۔کیونکہ موت میں مومن اپنے یار کے دیدار کو دیکھتا ہے۔صحابہ کی طرف دیکھو انہوں نے دین کے لئے کیسی کیسی قربانیاں کیں۔حضرت ضرار بن اسود ایک مخالف جرنیل کے مقابلہ میں اُس سے لڑنے کے لئے نکلے۔وہ کئی مسلمانوں لو شہید کر چکا تھا۔جب یہ اُس کے سامنے ہوئے تو فورا بھاگے اور دوڑتے ہوئے اپنے خیمہ کی طرف چلے گئے۔یہ دیکھ کر صحابہ میں سخت بے کلی اور بے چینی کی لہر دوڑ گئی کہ اب عیسائیوں کے سامنے ہماری کیا عزت رہ جائے گی۔کمانڈر انچیف نے فوراً ان کے پیچھے اپنا آدمی دوڑایا