خطبات محمود (جلد 26)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 249 of 516

خطبات محمود (جلد 26) — Page 249

خطبات محمود 249 +1945 اور کہا کہ پتہ لو ضرار کیوں بھاگے ہیں ؟ وہ گیا تو اُس وقت ضر اڑا اپنے خیمہ سے باہر نکل رہے تھے اس شخص نے کہا ضرار ! آج تم نے کیا کیا؟ تمہارے اس فعل کے نتیجہ میں آج سارے اسلامی لشکر کی گردنیں جھکی ہوئی ہیں کہ اسلام کا سپاہی اور رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا صحابی میدانِ جنگ سے بھاگ گیا۔حضرت ضرار نے کہا ہاں تم نے یہی سمجھا ہو گا مگر بات یہ ہے کہ جب کئی مسلمان یکے بعد دیگرے اس جرنیل کے ہاتھ سے مارے گئے تو میں نے فیصلہ کیا کہ اب میں اس کے مقابلہ میں نکلوں گا۔مگر جب میں اس کے سامنے کھڑا ہوا تو مجھے یاد آگیا کہ میں نے گرتے کے نیچے لوہے کی زرہ پہنی ہوئی ہے۔اُس وقت میرے دل نے مجھ سے کہا کہ ضرار ! کیا یہ زرہ تو نے اِس لئے پہن رکھی ہے کہ یہ بڑا بھاری جرنیل ہے ایسا نہ ہو کہ تو اس کے ہاتھ سے مارا جائے؟ کیا خدا کے ملنے سے تو ڈرتا ہے کہ زرہ پہن کر لڑنے کے لئے آیا ہے؟ جب میرے دل نے مجھ سے یہ کہا تو میں نے سمجھا اگر میں اس وقت مارا گیا تو میں جہنم میں جاؤں گا کیونکہ اللہ تعالیٰ مجھے کہے گا کہ معلوم ہوتا ہے کہ تجھے ہم سے ملنے کی خواہش نہیں تھی۔چنانچہ میں دوڑ تا ہوا واپس چلا گیا تا کہ میں زرہ اُتار آؤں اور اس کے بغیر اس کا مقابلہ کروں۔چنانچہ انہوں نے اپنا گرتا اٹھا کر بتایا کہ دیکھ لو میں زرہ اُتار کر آیا ہوں۔اس کے بعد وہ اس کے مقابلہ کے لئے نکلے اور اللہ تعالیٰ نے ایسا فضل کیا کہ انہوں نے اُسے مار لیا۔تو مومن موت کو اپنی زندگی سے بھی پیارا سمجھتا ہے۔جس چیز کو لوگ ہلاکت سمجھتے ہیں مومن اسے اپنے لئے برکت کا باعث سمجھتے ہیں اور جس چیز کو لوگ تباہی کا موجب سمجھتے ہیں مومن اسے اپنی ترقی کا موجب سمجھتے ہیں۔پس جہاں میں مرکز کے کارکنوں کو توجہ دلا تا ہوں اور ان کی غفلت اور کو تاہی پر انہیں ملامت کرتے ہوئے انہیں صحیح طور پر کام کرنے کی نصیحت کرتا ہوں وہاں میں جماعتوں کو بھی ملامت کئے بغیر نہیں رہ سکتا کہ انہوں نے اپنے فرائض کو صحیح طور پر ادا نہیں کیا۔اور عین اُس موقع پر جبکہ ہم لڑائی کے لئے تیاری کر رہے تھے انہوں نے ہماری طبیعتوں کو مشوش 2 کر دیا اور ہمارے وقتوں کو اس عظیم الشان کام کی بجائے اور کاموں کے لئے خرچ کروانے لگیں۔